‫‫کیٹیگری‬ :
02 January 2017 - 22:22
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425453
فونت
حضرت آیت الله حسین مظاهری:
حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ نے واقعات جنگ تبوک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کا حد سے زیادہ سختیوں کا برداشت کرنا اور ایک دوسرے کے حق میں فداکاری کرنا دشمن پر غلبہ کا سبب بنا تھا ۔
حضرت آیت الله حسین مظاهری

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی اصفھان سے رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ حضرت آیت الله حسین مظاهری نے آج صبح درس تفسیر قرآن کے آغاز پر کہ جو جی روڈ اصفھان میں واقع مسجد امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب(ع) میں منعقد ہوا کہا: ابتدائے اسلام میں منافقین کی نفاق آمیز حرکتوں نے اسلام پر کاری ضرب لگائیں ۔

انہوں نے سوره بقره کی آیات میں موجود منافقین کے احوالات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: سوره بقره کی گیارہویں آیت « وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ لا تُفْسِدُوا فِی الأرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ؛ ترجمہ: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں » میں قران کریم نے فرمایا کہ جب مومنین ، منافقین کو ان کے نفاق کی بخاطر متنبہ کراتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ لوگوں میں اختلاف نہ ڈالو تو منافقین، مومنین کے جواب میں کہتے کہ میری باتیں سچی اور بر حق ہیں ، ہم ان باتوں کے ذریعہ لوگوں کو متحد کرنا چاہتے ہیں ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے مزید کہا: منافقین کی جانب سے لوگوں کے اتحاد کی باتیں فقط اور فقط ایک دھوکہ تھیں ، کیوں کہ نفاق پریشانی اور حیرانی کا سبب ہے اور یہ پریشانی و حیرانی لوگوں کے اتحاد کو توڑنے کے لئے کافی ہے ۔

حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ نے واقعات جنگ تبوک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جنگ تبوک ایک ایسی جنگ ہے جس میں مسلمانوں کے پاس امکانات بہت کم تھے ، جیسا کہ تاریخوں میں ملتا ہے کہ اس زمانہ میں ایک عدد خرما دو مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا تھا نیز منقول ہے کہ مسلمانوں کی جنگ میں شرکت کے سبب ان زراعتیں خراب و خشکسالی کا شکار ہوگئیں تھیں ۔

حوزہ علمیہ میں درس اخلاق کے استاد نے کہا: جنگ تبوک میں موجودہ سرزمین ترکی کے بادشاہ نے اسلامی سرزمینوں پر حملہ کر کے اسلام کو مٹانے کی ٹھان رکھی تھی مگر مرسل آعظم(ص) کو اس بات کی خبر ہوگئی اور اس سے پہلے کہ موجودہ سرزمین ترکی کا بادشاہ اسلامی سرزمینوں پر حملہ آور ہوتا آپ(ص) نے اسلامی سرزمین کا دفاع کیا ، مگر اس دور کے مسلمان سخت حالات سے دوچار تھے ، کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ رسول اسلام(ص) مسلمانوں کی ھمراہی میں دشمن پر پیروز اور غالب آجائیں گے مگر خدا کے لطف و کرم اور مسلمانوں کی ایک دوسرے کے حق میں فداکاری کے نتیجہ میں مسلمان ، کفار پر پیروز ہوگئے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۴۸۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬