15 April 2017 - 11:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427511
فونت
ایرانی وزیر خارجہ :
ایران کے وزیر خارجہ نے كہا كہ ايران پر مسلط كی جانے والی آٹھ سالہ جنگ كے دوران صدام كو مہلک ہتھيار فراہم كرنے والے آج دمشق حكومت پر كيميائی ہتھيار استعمال كرنے كا الزام لگا رہے ہيں.
محمد جواد ظریف


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظريف نے ماسكو ميں  روس اور شام کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشترکہ پريس كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے مغرب کی جانب سے شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام پر ردعمل دکھاتے ہوئے کہا کہ صدام کو کیمیائی ہتھیار دینے والے آج شام پر الزامات لگا رہے ہیں.

انہوں نے كہا كہ ايران، روس اور شام كے وزرائے خارجہ كا مطالبہ ہے كہ خان شيخون علاقے ميں مبینہ كيميائی حملے كی صاف اورشفاف تحقيقات كے لئے ايک بين الاقوامی فيكٹ فائنڈنگ كميٹی كی تشكيل عمل ميں لائی جائے اورغيرجانبدارانہ تحقيقات سے پہلے کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے سے گريز كيا جائے.

جواد ظريف نے كہا كہ صدام كي حمايت كرنے والے شام پر الزام لگا رہے ہيں جبكہ ہم جو كيميائی ہتھياروں كے شكار رہے ہيں، اس واقعے كی مكمل شفاف تحقيقات كے خواہاں ہيں مگر بدقسمتی سے امريكہ نے يكطرفہ فيصلہ كركے شام پر حملہ كرديا.

انہوں نے كہا كہ گزشتہ ہفتے شامی ايئربيس پرامريكی جارحيت سے يہ بات ثابت ہوئی ہے كہ خان شيخون كے واقعے سے فائدہ اٹھانے كی سازش ہورہي ہے.

واضح رہے كہ گزشتہ اكتوبر ميں ايران،روس اور شام كے سہ فريقی اجلاس میں جو ماسكو ميں منعقد ہوا تھا آستانہ ميں شام امن مذاكرات منعقد كرنے كا فيصلہ ہوا تھا۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬