‫‫کیٹیگری‬ :
05 June 2017 - 19:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428408
فونت
حجت الاسلام والمسلمین راجہ ناصر عباس جعفری:
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ پاکستان میں اہلسنت کے بعد ملت تشیع دوسری بڑی اکثریت ہے، ہمارے نوجوانوں کو گزشتہ تین دہائیوں سے چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے، حکمرانوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملت تشیع کو تحفظ فراہم کرے۔
راجہ ناصر عباس جعفری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سکریٹری حجت الاسلام والمسلمین راجہ ناصر عباس جعفری نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو شیعہ بہن بھائی اور کراچی میں شیعہ نوجوان محسن کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم دہشتگرد جماعتیں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہیں، دہشتگردی کے حالیہ واقعات سیکورٹی اداروں کو انتہاپسند عناصر کی جانب سے کھلم کھلا چیلنج ہے، حکومت کی جانب سے کالعدم دہشتگرد جماعتوں کے ساتھ لچک کا مظاہرہ ان مذموم عناصر کے حوصلے کو تقویت دے رہا ہے، ہزارہ برادری کی وطن عزیز کی آزادی میں نمایاں خدمات رہی ہیں، لیکن اپنے ہی شہر میں انہیں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے، مٹھی بھر دہشتگردوں کا حکومتی گرفت سے بچ کر کارروائیوں میں مصروف ہونا حیران کن ہے۔

انہوں ‌نے اپنے مذمتی بیان میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مذہب کے نام پر قتل و غارت کرنے والوں نے اب خواتین کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جو افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے، پاکستان میں اہلسنت کے بعد ملت تشیع دوسری بڑی اکثریت ہے، ہمارے نوجوانوں کو گزشتہ تین دہائیوں سے چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے، حکمرانوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملت تشیع کو تحفظ فراہم کرے۔

حجت الاسلام والمسلمین جعفری نے کہا کہ عسکریت پسند نام نہاد مذہبی جماعتوں نے اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، ان کے شر سے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں، عبادت گاہیں، مزارات، اسکول، امام بارگاہیں اور مساجد سمیت ہر اہم مقام پر دہشتگردوں نے کارروائیاں کرکے ملک کے امن و امان کو تباہ کیا ہے، موجودہ حکمران اچھے اور برے طالبان کے نام پر دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرتے آئے ہیں، جن کا خمیازہ اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام سے فرار ہونے والے داعشی دہشتگردوں کو افغانستان میں پناہ دی گئی ہے، تاکہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے میں انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسلام دشمن عالمی قوتیں داعش کو پاکستان میں دھکیل کر اپنا اگلا ہدف واحد اسلامی طاقت پاکستان کو بنانا چاہتے ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین جعفری نے مزید کہا کہ پوری حکومتی مشینری موجودہ حکومت کی کرپشن پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے، ملک کی سالمیت و بقاء سے انہیں کوئی غرض نہیں، عالمی دہشتگرد تنظیم داعش سے فکری مطابقت رکھنے والے نام نہاد علماء اور اداروں کے خلاف بھرپور کارروائی حالات کا اولین تقاضہ ہے، اس میں غفلت کا مظاہرہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل میں معاونت کے مترادف سمجھا جائے گا۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی جنرل سکریٹری نے کہا کہ تکفیری فکر کے فروغ میں سرگرم ادارے دہشتگرد ساز نرسریاں ہیں، وطن عزیز کی بقاء و سالمیت ان اداروں کی بیخ کنی سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، عوام میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کا خاتمہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں، کالعدم مذہبی جماعتوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے، ان جماعتوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، جو نام بدل کر اپنی مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہیں، کالعدم جماعتوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ رکھنے پر حکومتی و سیاسی شخصیات کو پابند کیا جائے، پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں لشکر جھنگوی اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی کمین گاہوں کا تدارک کیا جائے اور نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر کوئٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے اندر دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے، رمضان المبارک کے دوران عبادت گاہوں میں سیکورٹی کو بڑھایا جائے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬