‫‫کیٹیگری‬ :
18 July 2017 - 23:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429067
فونت
حجت الاسلام والمسلمین انصاریان:
حجت الاسلام والمسلمین انصاریان نے کہا : سٹرلائٹ چینل و ڈش چینل آپ لوگوں کے ایمان کو تشدد پہوچاتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے کہ آپ کا اخلاق تباہ ہو جائے ۔
حجت الاسلام والمسلمین انصاریان

رسا نیوز ایجنسی کے مشہد رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے حسینیہ ہمدانی مشہد میں اپنے مذہی جلسات میں تقریر کرتے ہوئے سورہ مبارکہ بقرہ کی ۱۷۷ وین آیت کے سلسلہ میں نکات بیان کرتے ہوئے کہا : یہ آیت اسلام کامل میں عملی و رویہ کے پہلو کو بیان کرتا ہے اور اگر کوئی اس آیت کا مصداق ہو تو وہ ایک حقیقی مومن ہے ۔

انہوں نے اپنی تقریر میں بیان کیا : سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت 177 میں ۵ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ قلب کو اس حقیقت کے ساتھ ھماھنگ ہونا چاہیئے ۔ خداوند عالم سورہ مبارکہ حجرات میں فرماتے ہیں «إنّما المُؤمِنونَ الذینَ آمنوا بالله و رسوله ثم لَم یَرتابوا» یعنی ایمان سے انسان کا یہ قلبی لگاو کسی بھی وجہ سے جدا نہیں ہونا چاہیئے ۔ ایسے ایمان کو مستحکم ایمان کہا جاتا ہے اور تاریخ کے تمام دور میں ہر انسان اپنے زمانہ کے مطابق حادثہ کا شکار ہوتا ہے کہ جو مومنین کے ایمان کے لئے خطرہ ہوتا ہے ۔

انہوں نے اس تاکید کے ساتھ کہ حقیقی مومن کبھی بھی تاریخی حوادث کے سامنے اپنے ایمان سے واپس نہیں لوٹتے ہیں وضاحت کی : آپ لوگوں کو چاہیئے کہ بلال ، یاسر ، سمیہ ، اور حبشہ کے مہاجروں کی زندگی کا مطالعہ کریں اور ملاحظہ کریں کہ یہ لوگ کس حادثات سے روبرو ہوئے ہیں لیکن ان کے ایمان میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی ہے ۔

استاد حوزہ علمیہ نے وضاحت کی : حضرت بلال نے بھی عملی طور سے سخت خطرے کا سامنا کیا ہے اور ان کے ساتھ بہت حوصلہ افزائی کی گئی لیکن ذرہ برابر بھی دشمن کی حوصلہ افزائی کو اہمیت نہیں دی ؛ حالانکہ بہت سے لوگ دولت و قدرت کے آگے ہار گئے ہیں اور سر تسلیم خم کر دی ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین انصاریان نے آیت شریفہ «إِنَّ الَّذينَ قالوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقاموا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ المَلائِكَةُ أَلّا تَخافوا وَلا تَحزَنوا وَأَبشِروا بِالجَنَّةِ الَّتي كُنتُم توعَدون» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : جو شخص خدا کو دل سے حاصل کر لیتا ہے وہ خدا کے راہ میں استقامت کرتا ہے ۔ خداوند عالم کو دل میں اس وقت پایا جاتا ہے کہ جب انسان گناہ کے تمام پردوں کو ہٹا دے اور اس کا دل ہر طرح کے ظلمات و تاریکی سے آزاد ہو جائے ۔ خداوند عالم کو پا لینے والا انسان کبھی بھی خدا سے جدا نہیں ہو سکتا ہے ۔

یہ مذہبی ماہر نے بیان کیا : جو لوگ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے قید کی سختی برداشت کی ہے وہ جانتے ہیں کہ خدا پر ایمان کے راستے میں کتنی سختی و زحمتیں ہوتی ہیں ۔ اگر ہمارا دین دولت و مقام و منزلت ہو تو جب تک یہ دو ہمارے اختیار میں دیا جائے گا ہم دیندار ہیں لیکن حقیقی ایمان اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ تازیانہ مارے جانے کے وقت بھی انسان کے اندر پایا جاتا ہو ۔  

حجت الاسلام والمسلمین انصاریان نے اس زمانہ میں دشمنوں کی طرف سے مومنوں کے ایمان پر اثر انداز ہونے کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : قید انسان کے بدن کو تشدد پہوچاتا ہے اور انسان یا اس کے مقابلہ میں تحمل و برداشت کرتا ہے یا بحر حال قید کی مدت ختم ہو جاتی ہے لیکن سٹرلائٹ چینل و ڈش چینل آپ لوگوں کے ایمان کو تشدد پہوچاتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے کہ آپ کا اخلاق تباہ ہو جائے ۔

انہوں نے وضاحت کی : ایمان ایک الہی بریک ہے کہ انسان کو گناہ سے محفوظ کرتا ہے اور اجازت نہیں دیتا ہے کہ اپنی ضرورت کو پوری کرنے کے لئے زنا ، چوری ، رشوت کو انجام دے ۔ صاحبان ایمان وہ لوگ ہیں کہ جہل کے پردے ، تعصب کی تاریکی اور گناہ کی تاریکی کو خود سے دور کر دیا ہے اور ان کا قلب عالم ملکوت سے جا ملا ہے اور حضرت حق کی بے نہایت زیبائی کو حاصل کی ہے ۔ /۹۸۹/ف۹۳۰/ک۷۱۸/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬