‫‫کیٹیگری‬ :
11 September 2017 - 19:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429901
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
حضرت ‌آیت الله مکارم نے کہا: وکیل، دین کے دائرے میں رہ کر مقدمے لڑیں کیوں کہ اگر شرعی معیاروں سے ہٹ کر مقدمہ لڑیں گے تو اصلاح کے بجائے دشورایاں پیدا کریں گے ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے وکلاء کی ٹیم سے ملاقات میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ عصر حاضر میں وکالت عدالت کے اہم مسائل و امور میں شمار کی جاتی ہے کہا: اکثر عوام قانونی پیچ خم سے آگاہ نہیں ہیں لہذا جب تک کسی ماہر وکیل سے رابطہ نہ کریں گے ہرگز اپنے مقصود اور حق نہیں پہونچ سکتے ۔

انہوں نے مزید کہا: شاید ماضی میں وکالت کی ضرورت کم رہی ہو مگر دور حاضر اس میں کوئی شک نہیں کہ عدالت کے میدان میں وکالت کی سخت ضرورت ہے ، چوں کہ قوانین بڑھ چکے ہیں لہذا ماہر افراد اور ماہر وکیلوں کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے مگر اس میدان میں کچھ کمیاں بھی ہیں جو لوگوں کی ناراضگی کا سبب ہیں ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے اس راہ میں موجود مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: کبھی وکلاء لمبی لمبی فیس کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جو ان کے کام سے کہیں سے زیادہ ہوتی ہے ، دوسری جانب بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر مقدمہ ایک ارب ایرانی پیسہ کے سلسلے میں ہو تو دس کروڑ فیس ادا کریں جبکہ ممکن ہے اس مقدمہ میں ان کے ۲۰ گھنٹے سے زیادہ نہ لگے ، ۲۰ گھںٹے کے لئے دس کروڑ کی فیس بہت زیادہ ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: افسوس بعض وکلاء پیسے اور فیس کے لئے ہر کسی کی وکالت قبول کرلیتے ہیں ، یہ جاننے کے باوجود کہ حق اس کے مقابل کا ہے مگر پھر بھی اسی کا دفاع کرتے ہیں ، اور اس بھی بدتر کہ پیسے کے لئے ناحق کو حق بنا کر اظھار مسرت کرتے ہیں ۔

آیت الله مکارم شیرازی نے بیان کیا: وکلاء ھرگز ناحق افراد کا دفاع نہ کریں ، ممکن ہے یہ چیزیں مغربی دنیا میں پائی جاتی ہوں مگر اسلامی شریعت کے خلاف ہے ، اسلام کے لحاظ سے فقط حقدار کی وکالت کرنی چاہئے ناحق افراد کی وکالت نہیں لینی چاہئے ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض وکلاء جان بوجھ کر مقدمے کو طولانی کردیتے ہیں کہا: وکیل اور قانون داں، دین کے دائرے میں رہ کر مقدمے لڑیں کیوں کہ اگر شرعی معیاروں سے ہٹ کر مقدمہ لڑیں گے تو اصلاح کے بجائے دشورایاں پیدا کریں گے ، وکلاء دین کے دائرے میں رہ کر مظلوم کا دفاع کریں ، افسوس بعض وکیلوں نے پیپرس میں ایڈ دیا تھا کہ جو گھرانے طلاق چاہتے ہیں ہم ایک ھفتے کے اندر ان کا طلاق دلادیں گے یہ نہایت افسوس کا مقام ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے یہ کہتے ہوئے پیسے کیلئے خاندانوں توڑنا جنایت ہے کہا: وکلاء اپنے مقدمے شرعی اصول و بنیادوں پر لڑیں ، بہت سارے لوگ جب ہم تک مراجعہ کرتے ہیں تو ہم نے انہیں مظلوم پایا ہے ۔/؛۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۵۵۳

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬