‫‫کیٹیگری‬ :
30 October 2017 - 13:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 431598
فونت
وہ اپنی اس کتاب کے عنوان کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آج تک یوسف زلیخا کی داستان کو حضرت یوسف کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا گیا ہے، زلیخا کے عنوان سے زلیخا کا مطالعہ شاید بعض نئے گوشوں تک پہنچنے کا باعث بن جائے۔ انکا کہنا ہے کہ شاید ہم تاریخ اور اسکی ساخت و ارتقاء میں عورت کے کردار کے حوالے سے بعض نئے نکات تک پہنچ سکیں، یا کم از کم زلیخا کے تاریخی کردار اور اس کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
کتاب زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے صدر نشین، معروف محقق و دانشور، شہرہ آفاق کتاب ”پاکستان کے دینی مسالک“ کے مصنف نیز دسیوں دیگر تحقیقی و علمی کتب کے لکھاری ثاقب اکبر کی ایک اور اچھوتی اور امتیازی تحریر ”زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک“ منظر عام پر آگئی ہے۔

وہ اپنی اس کتاب کے عنوان کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آج تک یوسف زلیخا کی داستان کو حضرت یوسف کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا گیا ہے، زلیخا کے عنوان سے زلیخا کا مطالعہ شاید بعض نئے گوشوں تک پہنچنے کا باعث بن جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ شاید ہم تاریخ اور اس کی ساخت و ارتقاء میں عورت کے کردار کے حوالے سے بعض نئے نکات تک پہنچ سکیں، یا کم از کم زلیخا کے تاریخی کردار اور اس کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید وقت نے یہ کام اس دور کے لئے اٹھا رکھا تھا، جب انسانی وجدان عورت کو ایک حقیقی، باقاعدہ اور الگ وجود سمجھنے اور ماننے کے لئے تیار ہوچکا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل البصیرہ کے صدر نشین جو ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل بھی ہیں، کی کئی ایک کتابیں اپنا لوہا منوا چکی ہیں، جن میں ”پاکستان کے دینی مسالک“، ”امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی“، شعری مجموعہ ”نغمہ یقیں“، ”حروف مقطعات“ اور دیگر کئی کتب شامل ہیں۔

یہ کتاب ایک مختصر مگر اپنے موضوع کے عنوان سے جامع اور امتیازی کتاب ہے۔ اس کتاب نے اس موضوع پر فکر کے نئے دریچوں کو بھی کھولا ہے، جو صاحبان فکر و نظر اور شناوران بحر تحقیق کے لئے دعوت فکر ہے۔ کتاب علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ نشر و اشاعت نے شائع کی ہے۔  /۹۸۸/ ن۹۴۰

منتشر شده: ۱
زیر غور: ۰
ناشناس
Iran, Islamic Republic of
09:58 - 2019/08/17
ان کا کہنا ہے کہ شاید ہم تاریخ اور اس کی ساخت و ارتقاء میں عورت کے کردار کے حوالے سے بعض نئے نکات تک پہنچ سکیں، یا کم از کم زلیخا کے تاریخی کردار اور اس کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید وقت نے یہ کام اس دور کے لئے اٹھا رکھا تھا، جب انسانی وجدان عورت کو ایک حقیقی، باقاعدہ اور الگ وجود سمجھنے اور ماننے کے لئے تیار ہوچکا ہے۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬