‫‫کیٹیگری‬ :
02 February 2018 - 14:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 434873
فونت
آیت الله سید احمد خاتمی:
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت اور خوشنودی حاصل کرنے کے سلسلے میں ایران کے میزائل پروگرام کی طاقت کم کرنے کی تلاش وکوشش کررہا ہے لیکن ایران کسی بھی حکومت کو اپنے میزائل پروگرام میں مداخلت کی اجازت نہیں دےگا۔
آیت الله سید احمد خاتمی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت الہ سید احمد خاتمی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں  کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت اور خوشنودی حاصل کرنے کے سلسلے میں ایران کے میزائل پروگرام کی طاقت کم کرنے کی تلاش وکوشش کررہا ہے لیکن ایران کسی بھی حکومت کو اپنے میزائل پروگرام میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دےگا۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے اوراس کی نعمتوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

آیت اللہ خاتمی نے ظالم حکام کی نابودی کو اللہ تعالی کی اہم نعمت قراردیتے ہوئےکہا کہ شاہ ایران ایک ظالم و جابر حاکم تھا جس نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئےعوام کو مختلف قسم کے شکنجوں میں کسا ، سن 1357 ہجری شمسی میں اللہ تعالی نے اس ظالم حاکم کو نابود کیا اور ایرانی قوم کو فتح اور کامیابی عطا کی ۔ ظالم بادشاہ کی نابودی اللہ تعالی کی اہم نعمت ہے ہمیں اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

خطیب جمعہ نے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں امریکہ کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ایران کے خلاف معاندانہ پالیسیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ایران کے خلاف امریکہ کے تمام اقدامات کا مقصد اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ اگر ایران ، خطے میں اسرائیل کی مخالفت ترک کردے تو امریکہ ایران کا دوست بن جائے گا اور ایران کے خلاف مخالفت ترک کردےگا ۔ لیکن ایران اسرائیل کو غاصب اور ظآلم حکومت سمجھتا ہے جبکہ فلسطینیوں کو مظلوم  سمجھ کر ان کی حمایت کررہا ہے انھوں نے کہا کہ ہم  امریکہ کو شیطان سمجھتا ہے اور ہمیں امریکہ کی شیطنت کے بارے میں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ /۹۸۸/ن۹۷۶

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬