‫‫کیٹیگری‬ :
12 February 2018 - 13:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 434997
فونت
امریکی وزیر جنگ میٹیس نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے شام پر اس کی جارحیت کو تل ابیب کا حق قرار دیا ہے اور یہ مضحکہ خیز دعوی بھی کیا ہے کہ ایران علاقے میں مسائل پیدا کر رہا ہے۔
جیمز میٹیس

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر جنگ جیمز میٹیس نے اتوار کی رات یورپ کے لئے روانہ ہونے سے قبل نامہ نگاروں سے گفتگو میں ایران کو علاقے میں تل ابیب اور واشنگٹن کے لئے مسائل پیدا کرنے والا ملک قرار دیا۔

انھوں نے شام، عراق، لبنان اور یمن کے سلسلے میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر علاقے میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا اور شام پر اسرائیل کے جنگی طیاروں کی حالیہ جارحیت کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔

امریکی وزیر جنگ نے دعوی کیا کہ شام پر اسرائیل کے ہفتے کے روز کے حملے میں امریکہ شامل نہیں رہا ہے۔

دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے ایک پیغام میں اسرائیلی حکومت کو امریکہ کی وفادار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر اسرائیل کا حملہ اس کے اپنے دفاع میں تھاوائٹ ہاؤس نے اسرائیل کے لئے اشتعال انگیز حمایت جاری رکھتے ہوئے شام میں مزاحمتی قوتوں پر شر انگیز اقدامات کا الزام عائد کیا اور حکومت شام کے اتحادیوں سے شام کی حمایت بند کرنے کی اپیل کی۔

شامی فوج کے ہاتھوں اسرائیل کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے پر غاصب صیہونی حکومت اور اس کی حامی امریکی حکومت اس وقت بری طرح سے بوکھلائی ہوئی ہے۔غاصب صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے ہفتے کے روز کئی بار شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور دمشق کے بعض مضافاتی علاقوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا۔

غاصب صیہونی حکومت کے اس جارحانہ، اشتعال انگیز اور وحشیانہ اقدام کے بعد شامی فوج نے اپنی اینٹی ایئرکرافٹ گنوں سے جارحیت کا ارتکاب کرنے والے اسرائیل کے دو جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا جن میں ایک کو مار بھی گرایا۔

اس کے باوجود کہ غاصب صیہونی حکومت ہمیشہ یہ دعوی اور رائے عامہ کو یہ باور کراتی رہی ہے کہ اس کی فضائیہ مشرق وسطی میں جدید ترین وسائل و ٹیکنا لوجی سے لیس ہے تاہم اس کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے سے یہ بات مکمل طور پر واضح  ہو گئی ہے کہ اس کا دعوی بالکل جھوٹا اور کھوکھلا رہا ہے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬