‫‫کیٹیگری‬ :
16 February 2018 - 13:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435044
فونت
ڈاکٹر حسن روحانی:
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان کی عظیم قوم کے لئے ایرانی عوام کی طرف سے دوستی اور برادری کا پیغام لے کر ہندوستان آئے ہیں۔
حجت الاسلام حسن روحانی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے دورہ ہندوستان میں جنوبی شہر حیدرآباد دکن میں شیعہ اور سنی علما سے خطاب کے دوران ایران اور ہندوستان کی قوموں کے بے شمار تاریخی اور ثقافتی اشتراکات کا ذکرکیا اور کہا ایران اور ہندوستان کے تعلقات سیاسی اور اقتصادی روابط سے بالاتر ہیں۔

انہوں نے مذاہب کی ایجاد کے فلسفے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ادیان اور مذاہب اچھائیوں کی ترویج اور برائیوں کے خاتمے کے لئے آئے ہیں اس لئے دین اسلام کی ترویج میں مسلم علما کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایرانی عوام کا پیغام ہندوستان کی عظیم قوم کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات اور دوستی کو فروغ دینا ہے کہا کہ ایران ہندوستان کے ساتھ سبھی ممکنہ شعبوں میں تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہتا ہے۔

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مذاہب کے نام کا غلط استعمال اور مسلمانوں کے درمیان اختلافاور تفرقہ پیدا کرنے کی سامراجی طاقتوں کی کوششوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سبھی لوگوں  کی ذمہ داری ہے کہ  قرآن کریم اور سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے روئے زمین پر اچھائیوں اور نیکیوں کی ترویج اور برائیوں کا خاتمہ کریں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے حیدرآباد دکن میں اپنے قیام کے دوران قطب شاہی مقبرہ  کا بھی دیدار کیا جبکہ انہوں نے حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں نمازجمعہ کے بعد لوگوں کے بڑے اجتماع سے بھی خطاب کیا۔  صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ہندوستان کے وزیرا‏‏عظم نریندر مودی کی دعوت پر ایک اعلی رتبہ سیاسی اور اقتصادی وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر جمعرات کو حیدرآباد پہنچے۔

صدر روحانی کا باضابطہ سرکاری استقبال ہفتے کو نئی دہلی میں کیا جائے گا۔ ان کے دورہ ہندوستان میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں پندرہ سمجھوتوں پر دستخط ہوں گے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬