‫‫کیٹیگری‬ :
14 May 2018 - 18:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435926
فونت
آیت الله جوادی آملی:
مفسر عصر حضرت ‌آیت الله جوادی آملی نے کہا: تہذیب کے دعویدار ممالک میں اسلحہ بنانے والے کارخانے تین شیفٹوں میں کام کرتے ہیں اور زیادہ تر ان ممالک کے بجٹ انسان کی کشی میں صرف ہوتے ہیں ۔
آیت‎الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی غرض سے قم آنے والے انگلینڈ ، کینڈا اور بوسنی کے شیعوں نے اسراء سنٹر قم میں حضرت آیت الله جوادی آملی سے ملاقات و گفتگو کی ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اس ملاقات میں بیان کیا: ہریونیورسٹی اور دینی تعلیمی مراکز میں زیر تعلیم افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی باتوں کو سیکھیں جو الھی خلقت کے مقصد کے خلاف نہ ہو ۔

انہوں نے بیان کیا: خداوند متعال نے ماں باپ کو یاد دہانی کی ہے کہ نطفہ منتقل کرنے کے سوا تمھارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ، اس خلقت کو بنانے والی ذات کا نام خدا ہے اور خدا نے اس سینے اور پنڈلیوں کو وحدانیت کی بنیادوں پر استوار پیدا کیا ہے ، لہذا اس نے ماوں سے کہا کہ وضو کے ساتھ بچوں کو دودھ پلاو اور باپ سے کہا کہ حلال لقمہ کھلاو ، روایتوں میں یہ جو موجود ہے کہ حرام لقمہ نسلوں کو جلا دیتا ہے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی واضح طور سے کہا: تہذیب کے دعویدار ممالک میں اسلحہ بنانے والے کارخانے تین شیفٹوں میں کام کرتے ہیں اور زیادہ تر ان ممالک کے بجٹ انسان کی کشی میں  صرف ہوتے ہیں ۔

انہوں ںے امریکا کے سامراجی مزاج کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ٹرامپ نے عالمی معاھدہ کو توڑ کر وہ کام کیا جسے کوئی غیر مسلم بھی انجام نہیں دیتا کیوں کہ عھد و پیمان کا وفا کرنا ھر انسان کو مطلوب اور محترم ہے ۔ /۹۸۸/ ن۹۷۷

  

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬