‫‫کیٹیگری‬ :
23 May 2018 - 16:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436024
فونت
آیت الله جعفر سبحانی:
حضرت آیت الله سبحانی نے قران کریم میں دشمنوں اور مشرکوں کی عھد شکنی کے حوالے سے موجود آیات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: مشرکین ھرگز اپنے کئے ہوئے عھد کو اہمیت نہیں دیتے ۔
حضرت آیت الله جعفر سبحانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے مدرسہ حجتیہ قم میں منعقد تفسیر قران کریم کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے سوره توبه کی ۹ ویں آیت کی تفسیر میں کہا: میں نے کل یہ بیان تھا کہ مشرکین ھرگز اپنے کئے ہوئے عھد کو اہمیت نہیں دیتے ۔

انہوں نے مزید کہا: بعد کی آیت بھی اسی سلسلہ میں ہے کہ مشرکین جس وقت طاقتور بن گئے وہ کسی بھی عھد کو اہمیت نہیں دیتے اور حتی دیگر انسانی اور سماجی مسائل کو بھی نادیدہ قرار دیتے ہیں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مشرکین ھمیشہ زبان کے ذریعہ مسلمانوں کو فریب دینے کے درپہ ہوتے ہیں کہا: اس آیت میں اس نکتہ کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ مشرکین کا دل و زبان الگ الگ ہے ، اس آیت میں «فاسقون» کا لفظ گناہگار کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ ان لوگوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اخلاق و انسانیت سے خالی ہیں ۔

انہوں ںے مزید کہا: عصر حاضر میں ایٹمی معاھدہ ہمارے سامنے ہے ، چھ حکومتوں نے کئی ماہ تک بیٹھ کر مذاکرات کئے اور جب نتیجہ تک پہونچ گئے تو سبھی نے وعدہ خلافی کی ، اگرچہ ایک حکومت کھلم کھلا اس معاھدہ سے باہر نکل گئی ہے مگر باقی افراد بھی فقط زبان کی حد تک ہی اس معاھدہ کے ساتھ ہیں اور ان کے دل ہمارے مخالف ہیں کہ جو اس آیت کا مکمل مصداق ہے ۔

حوزه علمیه قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے یاد دہانی کی:  قرآن کریم نے 1400 سال پہلے اس نکتہ کی نشاندہی کی تھی کہ دشمن اور مشرک ھرگز اپنے کئے ہوئے عھد پر ثابت نہیں رہیں گے ، اپنی دستخط کی روشنائی خشک ہونے سے پہلے ہی عھد شکنی کریں گے ، لہذا اگر ہم نے قران کریم کے احکامات پر عمل کیا ہوتا تو آج اس مشکل سے روبرو نہ ہوئے ہوتے ۔

انہوں نے تاکید کی کہ مشرکین ھرگز آیات الھی پر توجہ نہیں کرتے کہا: نویں آیت میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین آیات الھی ، دین اور مذھب کو دنیا کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور اسی وجہ سے پروردگار عالم کو ان کا عمل ھرگز پسند نہیں ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے اپنے بیان کے دوسرے حصہ میں بیان کیا: یقینا اسلامی معاشرے کے حکمراں اور ذمہ دار طبقہ نے انتھک کوششیں کی اور وہ اس طرح معاشرہ کی خدمت رکنا چاہ رہے تھے ، یہ بین الاقوامی معاھدہ کچھ ہمارے حق میں اور کچھ دوسروں کے حق میں بہتر بھی تھا مگر افسوس وہ فقط زبان سے ہی ساتھ رہے ۔

 

انہوں نے بیان کیا: اس سورہ کی دسویں آیت بھی اسی بات کی تاکید کرتی ہے مشرکان اپنے عھد پر وفادار نہیں ہے ، البتہ اس آیت اور اس سے پہلے کی آیت میں فرق یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکان کی عھد شکنی کا مطلقا تذکرہ کیا گیا اور ۹ویں آیت میں قدرت مند ہونے کی صورت میں ان کی عھد شکنی کا تذکرہ ہے ۔

حوزه علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ آیت حکومتوں کی بیداری اور درس عبرت کا سبب ہے یاد دہانی کی: ہم ان سامراجی طاقتوں کی عھد شکنی پر ان کے شکر گزار ہیں اور اس کے بعد ہمیں زیادہ توجہ رکھنی چاہئے کہ نظام اسلام کے دشمنوں پر اعتماد نہ کریں ۔

انہوں نے بیان کیا: گیارہویں آیت میں بھی پانچویں آیت کی طرح توبہ ، ایمان اور عمل صالح کی تاکید کی گئی ہے ، البتہ ان دونوں کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ پانچویں آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے ان کے لئے ایمان اور توبہ کا راستہ کھلا رکھو مگر اس آیت میں ایک قدم بالاتر کہا گیا ہے کہ انہیں اپنا دینی برادر جانو ۔

اس مرجع تقلید نے اپنے بیان کے آخر حصہ میں معاشرہ کی موجودہ مشکلات کے پیش نظر کہا: ملک کو ایک قومی نٹ اور سوشل میڈیا کی ضرورت ہے تاکہ اس میدان میں دشمن اور بیگانہ طاقت سے وابستہ نہ رہے ۔/۹۸۸/ ن۹۷۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬