‫‫کیٹیگری‬ :
29 July 2018 - 19:24
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436728
فونت
آیت الله جوادی آملی :
حضرت ‌آیت الله جوادی ‌آملی نے تاکید کی : ہم لوگوں کی تمام دینی احکامات یہ ہے کہ ہمارا تمدن ہمارے دینداری سے فراہم پائے ۔ ہم لوگوں کو ایک متمدن قوم ہونا چاہیئے اور ہمارا تمدن ہماری دینداری میں ہے ۔
آیت الله جوادی ‌آملی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت الله جوادی آملی نے اپنے ہفتگی درس اخلاق میں امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : ابن السکّیت جو ایک معروف عالم دین میں سے تھے امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا کہ اس زمانہ میں لوگوں پر حجت خدا کیا ہے ؟ لوگ کس معیار پر حق کو طابل سے ، صدق کو جھوٹ سے ، نیکی کو شر سے اور اچھائی کو برائی سے تشخیص دیں ؟ «فَقَالَ الْعَقْل‏»، تو امام نے جواب دیا عقل بہترین میزان اور بہترین حجت ہے ۔ جب امام رضا علیہ السلام نے ابن السکیت کے سوال کے جواب میں اس مطالب کو بیان کیا تو ابن السکیت نے کہا : «هَذَا وَ اللَّهِ‏ هُوَ الْجَوَابُ‏». خدا کی قسم جواب حقیقی یہ ہے کہ لوگوں پر خداوند عالم کا حجت عقل ہے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے امام رضا علیہ السلام کی دوسری حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : دوسری حدیث جو امام رضا علیہ السلام سے ہمارے پاس پہوچی ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا : «صَدِیقُ كُلِّ امْرِئٍ عَقْلُه وَ عَدُوُّهُ جَهْلُه‏» ہر شخص اور ہر قوم کا دوست اس شخص و قوم کا عقل ہے ، ہر شخص اور ہر قوم کا دشمن اس شخص و قوم کا جہل ہے ، پہلے عقل کا معنی بیان کیا ۔ عقل ؛ یعنی ایک ایسی طاقت جو انسان کا منہ بند کر سکے ۔ انسان کے آنکھ کو کنٹرول میں رکھ  سکے ، ہر محرم کسی نامحرم کو نہ دیکھے ۔ ہر برائی و اچھائی کو نہ کہے ۔ ہر بدی و زیبائی کو نہ کہے ، ہر حق و باطل کو نہ لکھے اور معاشرے کو مضطرب نہ کرے ۔ جو شخص سچ بولتا ہے ، حق کہتا ہے ، اس نے خود کو بھی مطمئن کی ہے اور معاشرے کو بھی مطمئن کرتا ہے ۔

فرمایا اگر کوئی عاقل ہوتا ہے تو اس کا دوست وہی عقل ہے ۔ صحیح ہے کہ اپنے بیوی و بچوں سے محبت کرتا ہے ، یہ سب وسیلہ ہیں نہ مقصد ۔ حضرت نے فرمایا : انسان ایک سے محبت کرتا ہے وہ اس کی فہم ہے ۔ یہ نہیں کہا ہے کہ ہر انسان کا عقل اس کا دوست ہے ۔ یہ «صدیق» خبر مقدم ہے اور «عقل» مبتدای مؤخر ہے ، مبتدا کو مقدم ذکر نہیں کیا ہے ، خبر کو مقدم ذکر کیا ہے ۔ یہ کہ خبر کو مبتدا سے پہلے ذکر کیا ہے وہ حصر کے فائدہ کے لئے کیا ہے ؛ یعنی انسان فقط و فقط ایک کو دوست رکھتا ہے وہ اس کا فہم ہے ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : امام رضا (صلوات الله و سلامہ علیہ) نے جس مطالب کو فرمایا یہ مطالب  بہت ہی غور و فکر کرنے کی ہے ، واجب نماز اور روزہ اپنی جگہ پر محفوظ ہے لیکن مستحب نماز اور مستحب روزہ کو بھی بہت زیادہ معیار نہیں بنایا جا سکتا ہے ، «لَیْسَتِ الْعِبَادَةُ كَثْرَةَ الصِّیَامِ‏ وَ الصَّلَاةِ‏» ، وہ تمام مستحب نماز اور مستحب روزہ کا ثواب اپنی جگہ محفوظ ہے لیکن یہ سب عبادت نہیں ہیں ۔ «وَ إِنَّمَا الْعِبَادَةُ كَثْرَةُ التَّفَكُّرِ فِی أَمْرِ اللَّه‏» ، الہی تدبر میں فکر کرنا ، موحدانہ زندگی بسر کرنا عبادت ہے ۔ 

حوزہ علمیہ قم کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : یہ ملک جب اہل بیت علیہم السلام کا ملک ہے تو ان کے فرمان پر عمل کیا جائے ؛ عمل کا راستہ کھلا ہے ، ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اس ملک کو طیب و طاہر رکھیں ۔ اور اس سلسلہ میں ہم ذمہ دار ہیں ۔ زیارت وارثہ میں پڑھتے ہیں : «طِبْتُمْ وَ طَابَتِ الْأَرْضُ الَّتِی فِیهَا دُفِنْتُمْ»، آپ لوگ طیب و طاہر ہیں ، اس ملک کو آپ نے طیب وطاہر کیا ہے ۔ /۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬