
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جمہوریہ اسلامی ایران نے شہید سردار قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کا بدلہ عین ان کی شہادت کے وقت آج صبح ان کے مبارک نام سے اس آپریشن کو عراق کے عین الاسد امریکی بیس پر دسیوں میزائیل سے حملہ کا آغاز کیا ۔
عین الاسد ہوائی بیس ایک فوجی ائیرپورٹ ہے کہ جہاں ایک رن وے ۴۰۰۰ میٹر لمبا ہے اور دریا سے اس کی اونچائی ۱۸۸ میٹر ہے جو امریکی فوج کے اختیار میں ہے وہاں امریکی فوجوں نے اپنا اڈہ بنا رکھا ہے ۔
امریکی حکومت نے اس حملہ کی تائید بھی کی ہے اور ہنگامی میٹینگ طلب کی ہے اور امریکی سیاست مدار ٹرمپ کو اس حملہ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ امریکی فوج پر حملوں کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے فوجیوں کی حفاظت یقینی بنائے گا۔
نینسی پلوسی نے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ صورتحال پر کہا کہ امریکا اور دنیا ایک اور جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے غیرضروری اشتعال انگیزی ختم کرنے کا بھی کہا۔
دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے دنیا بھر میں امریکی مشنز کے نام ہنگامی پیغام بھیجا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکی سفارتکار اجازت کے بغیر ایرانی اپوزیشن گروہوں سے نہ ملیں، ایرانی اپوزیشن سے ملاقات کشیدگی میں اضافےکا باعث بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے شروع ہونے والے اس آپریشن کا نام شہید جنرل سلیمانی ہے اور یہ یا زہراء کے رزمیہ نعرے کے ساتھ شروع ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی چھاونی عین الاسد پوری طرح سے تباہ ہوگئی۔
ادھر حزب اللہ لبنان نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کی جوابی کارروائی کا جواب دینے کی جرات کی تو اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا انتقام ان کی تدفین سے پہلے ہی لے لیا۔ ایران سمیت عالم اسلام سے انتقامی کارروائی کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا تھا۔ ایران کے عوام سڑکوں پر نکل کر خوشیاں منا رہے ہیں وہ ایران کا پرچم لے کر حکومت کی حمایت اور امریکا و اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔