‫‫کیٹیگری‬ :
30 March 2020 - 17:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442408
فونت
الازھر فتاوی مرکز نے کرونا کے حوالے سے نادرست قرآنی تفسیر پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الازھر سے وابستہ فتوی مرکز نے قرآن مجید کے نادرست تفسیر پر خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرونا کے حوالے سے سوره مبارکہ مدثر کی آیت کی غلط تفسیر پیش کی جا رہی ہے۔

مرکز کے بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ آیت کا کرونا سے کوئی تعلق نہیں ہے، من پسند اور ذاتی خیال کو تفسیر کے طور پر پیش کرنا شرعاً حرام ہے کیونکہ یہ خدا پر الزام اور جھوٹ کی ترویج ہے چنانچہ قرآن خود خبردار کرتے ہوئے کہا ہے:

: «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ»(أعراف/ ۳۳) یا ایک اور جگہ فرمایا ہے «قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ لا يُفْلِحُونَ»(يونس/۶۹).

الازهر نے واضح کیا ہے کہ تفسیر صرف مفسرین کا کام ہے جو قرآن و حدیث کی بناء پر ماہرانہ تفسیر پیش کرسکتے ہیں، اور رائے عامہ کو من پسند خیالات سے گمراہ کرنا درست نہیں جیسے کہ کہا گیا ہے «وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ»(سوره مائدة/ ۲) من پسند خیالات کو تفسیر کے طور پر پیش کرنا گناہ میں مدد کرنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں مصر میں سوشل میڈیا صارفین نے آیت ۸ سوره مدثر «فإذا نقر في الناقور: جب حق کا فیصلہ کن ناقور بجتا ہے(صور پھونکا جاتا ہے اور مردہ زندہ ہوتا ہے)» اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ «ناقور» کا مطلب کرونا ہے جو عصر حاضر میں آسمانی بلا اور زلزلہ و آتش فشاں پر بھی اشارہ ہے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬