22 May 2020 - 16:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442793
فونت
یقینا کرونا ایک ایسا خطرناک وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، ایسی بیماری یقینا خطرناک ہے اور ہر ایک کو اس بیماری کے سلسلہ سے تشویش لاحق ہونا چاہیے  جس نے دنیا بھر میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ۔

تحریر: حجت الاسلام و المسلمین سید نجیب الحسن زیدی

یقینا کرونا ایک ایسا خطرناک وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے،ایسی بیماری یقینا خطرناک ہے اور ہر ایک کو اس بیماری کے سلسلہ سے تشویش لاحق ہونا چاہیے  جس نے دنیا بھر میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہو اور جس کے چلتے تین لاکھ سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہوں   شک نہیں کہ پوری دنیا اس وائرس سے پریشان ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔

ایسے میں ہر ایک پر لازم ہے کہ خود بھی احتیاطی  تدابیر   کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اور اپنے گھر والوں کو اس خطرناک وائرس کے حملہ سے بچائے ساتھ کوشش کرے کہ یہ موذی وائرس کہیں اور نہ پھیلنے پائے ،ہر صاحب شعور یقینا احتیاط بھی کر رہا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ دوسرے افراد اس سے متاثر نہ ہو یہی وجہ ہے کہ اگر کسی کے اندر اس وائرس کی نشان دہی ہوتی ہے تو کچھ دنوں کے لئے اسے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے اس کے اپنے بھی اس سے نہیں ملتے کہ کہیں وائرس کی زد میں نہ آ جائیں  جگہ جگہ قرنطینہ کے مراکز قائم کئے گئے ہیں مبتلا لوگوں کو وہاں رکھا جا رہا ہے یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں  کہ اس وائرس سے دنیا کیسے لڑ رہی ہے  ، کاش جس طرح دنیا اس وائرس سے لڑ رہی ہے ویسے ہی ا س سے زیادہ خطرناک وائرس سے بھی لڑتی ایسا وائرس جو دنیا کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے  بشریت کے سکون کے لئے خطرہ ہے ۔

کرونا وائرس کے سلسلہ سے دنیا جس طرح سر جوڑے بیٹھی ہے کاش دنیا کے امن کو غارت کرنے والے مہلک وائرس کے بارے میں کچھ سوچتی  اس لئے کہ یہ وائرس تو ایسا ہے جو کرونا کے مریضوں کوبھی نہیں بخشتا  یہ وائرس تو ایسا ہے جو کرونا کی وبا سے جوجھتے لوگوں کی جانوں تک کو نہیں بخشتا ہے

جس طرح کرونا وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر اس کے خلیوں میں سرایت ہو کر انسانی  پھیھپڑوں کو ناکارہ بنا دیتا ہے اسی طرح کرونا سے خطرناک وائرس  لوگوں  کی فکروں میں سرایت کر کے ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے ، جس طرح کرونا وائرس کے حامل  افرادکو الگ تھلگ نہ کیا جائے تو یہ پھیلتا چلا جاتا ہے اور جتنا لوگوں سے گھلنا ملنا بڑھتا ہے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ویسے یہی کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس ہے یہ اقتصادی تعلقات کے بہانے ، ٹکنالوجی و پیشرفت کے نعروں کی آڑ میں قوموں کے اندر گھس کر انہیں برباد کر دیتا ہے اسکا علاج یہی ہے کہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے اور اس وائرس میں مبتلا جو بھی لوگ ہیں چاہے اپنے ہوں یا پرائے سب کو ضروری ہے ایک محدود فضا میں سمیٹ دیا جائے اور مل جل کر اس سے لڑنے کی حکت عملی تیار کی جائے ، سوال یہ ہے کہ کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس ہے کہاں پایا کہاں جاتا ہے اور کیسے پتہ  کہ یہ وائرس کرونا سے بھی زیادہ خطرناک ہے تو اس کے لئے مطالعہ و غور فکر کی ضرورت ہے اس مختصر سے نوشتے میں ہم کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کی نشاندہی کے ساتھ کوشش کریں گے کہ ثبوتوں کی روشنی میں یہ بتا سکیں کہ یہ کتنا مہلک ہے ، اس وائرس کا نام ہے اسرائیل ، یوں تو اسکا مرکز مشرق وسطی ہے لیکن یہ آج ہر طرف پھیلا نظر آتا ہے 

کیوں کرونا سے خطرناک ؟

یہ کرونا سے خطرناک اس لئے ہے کہ یہ دہشت گردی کو تقدس فراہم کرتا ہے اور بے گناہوں کا قتل عام کرواتا ہے ،آپ کہیں گے ثبوت کیا ہے تو ثبوت یہ ہے کہ اس نے لاکھوں لاکھ  لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے لاکھوں کا قتل عام کیا  اور ہر دن کے سورج کے طلوع ہونے  کے ساتھ روز ہی اس کی قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہے ،یہ نہ بچوں کو دیکھتا ہے نہ بوڑھوں کو اور نہ عورتوں کو  جو اسکے سامنے آ جائے یہ اسے نشانہ بناتا ہے اور دہشت گردی کو ایک تقدس عطا کرتے ہوئے اسے قانون کی صورت پیش کرتا ہے  ممکن ہے  کسی کے ذہن میں سوال ہو  کیسے؟ توجواب کے لئےاسے اسرائیل کی تشکیل کی تاریخ اٹھا کر دیکھنا ہوگا جابجا اسے ایسے ثبوت مل جائیں گے کہ یہ وائرس کتنا خطرناک ہے خاص کر انتفاضہ اول سے لیکر اگر دوسرے انتفاضے کی تاریخ  پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے جب  آپ انتفاضہ دوم   کے وجود میں آنے کے محرکات کو دیکھیں گے تو اس وائرس کا بھیانک چہرہ سامنے آ جائے گا  چنانچہ     ۲۸ ستمبر  ۲۰۰ ء اس دور کے اسرائیلی وزیر اعظم « شارون»نے جب   خاصی  تعداد میں فوج کی بھاری نفری کے مسجد الاقصی کا رخ کیا تو مزاحمت کے طور پر   انتفاضہ  دوم  وجود میں آیا جسے انتفاضہ اقصی کے نام سے  جانا گیا جسکے نتیجہ میں  ۲۰۰۲ ء میں کچھ فلسطینیوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئیے  شہادت طلبانہ آپریشن کئیے ، اور جب یہ تحریک آگے بڑھی تو واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ قانون  کے ممتاز استاد « ناتھن لوین [1]» نے اعلان کیا کہ فلسطینیوں کے اس شہادت طلبانہ اقدام کو روکنے کے لئیے ضروری ہے کہ انکے گھروالوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے ۔

اب آپ اندازہ لگائیں کہ اپنی ہی سر زمین کو حاصل کرنے کے لئے مزاحمت کرنے والوں کے لئے یہ سزا کونسی قانون کی کتاب میں ہے کہ شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والوں کے گھر والوں کو پھانسی دے دی جائے ، ہر انسان جہاں اس بات پر حیران ہے وہیں آپ اس سزا کے پیچھے کتاب مقدس کی تعلیمات کو بھی دم بخود رہ جائیں گے  چنانچہ ناتھن کی جانب سے  ایک یہودی اخبار  «فاروارڈ»[2]کو اپنے دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران  یہ بات بھی کہی جاتی ہے :

 "غیر فوجی عام فلسطینیوں کے قتل کی پالیسی ، خودکش ( شہادت طلب ) حملوں کے مقابل ضروری انتباہ کو فراہم کرتی ہے !! لوین کی جانب سے  اس سلسلہ میں اپنی کہی بات کو تلمودی نظر شمعا [3]سے بھی جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے  یعنی یہ وہ بات ہے جو اس سے قبل شمعا میں بیان ہو چکی ہے ۔یہ وہ نظریہ ہے  جس کے بموجب  یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ قوم جسکے شہری مارے جاتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں انکے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک با مقصد ٹرر کے ذریعہ یا دیگر وسائل کی بنیاد پر اس بات پر مختار و آزاد ہوں کہ خودکش بمبار ( شہادت طلب ) کے پہلے درجہ کے رشتہ داروں   جو کہ والدین ، بھائیوں اور بہنوں کو شامل ہے  کو موت کے گھاٹ اتار دیں کاش کوئی اس عجیب و غریب نظریہ کو بیان کرنے والے کے سامنے  ۲۵ فروری  ۲۰۰۲ ء  کا وہ واقعہ رکھے جب ایک میریام گلداشتاین نامی  یہودی ہپرون کی ایک مسجد میں داخل ہوتا ہے اور ۴۰ فلسطینیوں کو نماز کی حالت میں شہید کر دیتا ہے  اور عجیب بات ہے کہ اس کی ماں اپنے بیٹے کے اس عمل کی تحسین   و تمجیدکرتی ہے اور اس پر افتخار کرتی ہے[4] ۔ان سب چیزوں کے باوجود ، کیاکوئی  منطق یہ کہتی ہے کہ اس اقدام کرنے والے  میریام  کے گھر والوں کو فورا موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے ؟

یہ تو محض افراطی یہودیوں کی ان   فلسطینی مسلمانوں  کے خلاف قتل و غارت گری کا ایک نمونہ ہے کہ جنکا خانہ و کاشانہ یہودیوں کی نفرت کا شکار ر ہو گیا  ۔

 بڑی اچھی بات کہی''  فسلطینیوں کی نسل کشی نامی کتا ب ''[5]کے مصنف نے کہ "ناتھن لوین صاحب اس مذکورہ بالا واقعہ کے پیش نظر  ضروری ہے کہ آپ اس قوم کے بارے  میں جو اپنے حق اور اپنی سر زمین کا دفاع کر رہی ہے  ایک نظر ثانی کریں  اور ایسے نفسیاتی اقدامات سے پرہیز کریں جو یہودی  جوانوں کے  ذہنوں  کو اکسانے کا سبب ہیں اب آپ اندازہ لگائیں یہ وائرس کتنا خطرناک ہے جو کہ دہشت گردی کو ایک تقدس فراہم کر رہا ہے ۔

یہ تو ایک مثال تھی   اگر آپ  صہیونی رہبروں کی باتوں کو سنیں تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ،جہاں یہودیوں کو ایک جگہ لانے کے لئے خود انکی مرضی کی ضرورت بھی نہیں ہے بلکہ کچھ ہی لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے  چنانچہ یہودیوں کی ایجنسی کے سربراہ  ڈیوڈ بن گوریان کا امریکی ویہودیوں کے  ایک مشترکہ اجتماع کا یہ بیان قابل غور ہے  " صہیونیت  کے اصولوں میں  ایک اصول تمام یہودیوں کو اسرائیل لانا تھا ، ہم مختلف گھرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمار ی مدد کریں تاکہ ہم انکے بچوں کو اسرائیل لے جا ئیں البتہ یاد رہے  کہ اگر وہ  ایسا نہیں بھی کریں گے تو ہم زبردستی انہیں اسرائیل لے جائیں گے ،، ان جملوں کا مطلب یہ ہے کہ  صہیونی اہداف کے امتداد میں یہودیوں کی اپنی رائے اور انکی اپنی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے  یہی وہ چیز ہے جس نے  صہیونیوں کے ساتھ یہویودیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے چنانچہ  بیت المقدس میں  عبری یونیورسٹی کے بانیوں میں ایک ڈاکٹر ماگنسس سلسلہ سے لکھتے ہیں : ہمارا ہمیشہ سے یہ خیال رہا کہ صہیونزم کی تحریک دنیا میں   یہودی ستیزی کے ختم  ہونے کا سبب ہوگی لیکن آج ہم اس کا بالکل الٹا اثر دیکھ رہے ہیں ۔ صہیونیوں نے یہود ستیزی سے سب سے زیادہ ناجائز فائدہ ہٹلر کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا ،  یہاں یہ تسلط پسندانہ عزائم یہودیوں کو نقصان پہنچانے کا سبب رہے ہیں  وہیں   یہ بات بھی ہے کہ اگر صہیونی نظریات سے ہٹ کر کوئی یہودیوں کے لئے آگے بھی آیا ہے تو اسے بھی مخالفت ہی کا سامنا کرنا پڑا ہے چنانچہ  ماریس ارنسٹ رفیو جی اور ملک  بدری   امور سے متعلق    بین الاقوامی ادارہ  روزولٹ کے نمائندہ اس بارے میں کہتے ہیں : جب یہودیوں کے لئیے میں جرمنی میں ایک امن و سکون کی جگہ تلاش کر رہا تھا اس وقت یہودی میرے اس کام کے خلاف تھے اور میرا مذاق اڑا رہے تھے حتی شدت کے ساتھ میرے اوپر حملہ آور تھے ۔ اب آپ اندازہ لگائیں جو لوگ یہودیوں کے لئے ہی کام کر رہے تھے لیکن صہیونی نظریہ سے مکمل طور پر متفق نہیں تھے  یہ  تسلط پسندانہ عزائم رکھنے والے  یہودی انکے بھی مخالف تھے یہ وائرس کتنا خطرناک ہےاسے سمجھنا ہو تو اس وائرس سے بری طرح متاثر ملک امریکہ کو ہی لے لیں جس کے بارے میں "صہیونی لابی اور امریکہ کے خارجی سیاست" نامی کتاب لکھنے والے دو عظیم قلمکاروں نے اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ امریکہ صہیونی لابی کے آگے کتنا بے بس ہے   یاد رہے کہ یہ کتاب اوہ جوزف میئر شیمر(John Mearsheimer (/ mɪrʃhaɪmər /؛ اور اسٹیفن والٹ  [6]کی مشترکہ کاوش ہے  دونوں ہی   آر وینیل ہیریسن ڈسٹرکٹ میں ممتاز  استاد کی حیثیت سے جانے جاتے  ہیں  کتاب کے مصنفین کا مقصد  اسرائیلی حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے صہیونیوں کی غلط توجیہات اور نئے قدامت پسندوں کی اس ناجائز حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے کی جانے والی تاویلوں کو آشکار کرتے ہوئے ان پر خط بطلان کھینچنا ہے ۔ اس کتاب میں واضح طو ر پر اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی سیاست  مداروں نے عراق اور افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا جبکہ صہیونی چھوٹی سی  منظم لابی کے سامنے انکی گھگھی بندھی رہتی ہے اور انکی حقارت کی انتہا نہیں ۔

مصنفین کی نظر کے مطابق مشرق وسطی میں امریکہ کی خارجی سیاست ہر ایک عامل سے زیادہ  صہیونی لابی سے متاثر ہے یہاں تک کہ آخری چند دہایہوں میں خاص کر اسرائیل و  عربوں کی جنگ کے دور سے اسرائیل سے تعلقات   کا مسئلہ مشرق وسطی میں امریکہ کی بنیادی سیاست  میں تبدیل  ہو گیا ہے ۔

یہ کتاب ۲۰۰۶  میں چھپی ، اور اسکے مارکیٹ میں آنے کے بعد  دنیا بھر میں  مخالفین و موافقین کے درمیان بحث و گفتگو کا بازار گرم ہو  گیا قابل ذکر ہے کہ ۲۰۰۶ ء میں ہی یہ کتاب کئی بار پرنٹ ہوئی اور اس کے ایڈیشن کے ایڈیشن ختم ہو گئے یہاں تک کے ۲۰۰۶ء میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب قرار پائی ۔

کتاب کے ایک حصہ میں ہمیں ملتا ہے" صہیونی لابی امریکہ میں اس قدر طاقت ور ہے کہ اس نے ناقابل خدشہ یہ عقیدہ لوگوں کے ذہنوں میں ترسیم کر دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی مفادات ایک ہی ہیں ''[7]واضح سی بات ہے کہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی  اس ملک  کے قومی مفادات کے پیش نظر تدوین پاتی ہے ، جبکہ یہ بات مشرق وسطی میں امریکی پالیسی پر صادق نہیں آتی اس لئیے  کہ صہیونی رژیم کے مفادات کا تحفظ اس علاقہ میں امریکہ کی اصلی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز ہے  کتنی عجیب بات ہے دنیا کا سب سے طاقت ورمانا جانے والا ملک  اتنا بے بس ہے کہ کہ امریکہ کی صدارت کے امیدواروں میں کوئی ایک ایسا نہیں ہے چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکراٹ کوئی بھی ایسانہیں جو صہیونیوں  کو خشنود کئیے بغیر انکی رضایت کے بغیر انکی مالی حمایت کے بغیر  الیکشن  میں  کامیاب ہونے کے بارے میں سوچ بھی سکے ۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا جو ایک طرف تو کرونا کے وائرس سے لڑنے میں ناکام رہا ہے دوسری طرف کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کو اپنے لئے نسخہ شفا بخش سمجھ بیٹھا ہے اور دونوں ہی وائرس ایسے ہیں جو مسلسل اسے تباہ کئے جا رہے ہیں ۔

یوم قدس اور صہیونی وائرس :

یوم قدس ہمارے سامنے ایک ایسا پلیٹ فارم  ہے جسکے ذریعہ ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ کرونا کے وائرس سے زیادہ خطرناک وائرس سے بھی بچنے کی ضرورت ہے کہ کرونا صرف انسانی جسم کو ناکارہ بنا کر اسے موت کے دہانے تک لے جاتا ہے لیکن کرونا سے خطرناک وائرس   قوموں اور ملکوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے ،پہلے تو صہیونی فکر کا یہ وائرس انسان کے ایمان کو کھاتا ہے اسے مادیت میں غرق کر دیتا ہے اور پھر  اسے ان ظاہری و مادی چیزوں کا غلام بنا لیتا ہے جنکی کوئی حقیقت نہیں جھوٹی و کاذب ضرورتوں کو وجود میں لاتا ہے ،  اہل ایمان کو ہی مصنوعی دشمن بنا کر پیش کرتا ہے ، مذہب کو مذہب کے خلاف استعمال کرتا ہے جبکہ یوم  قدس ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح ہم متحد ہو کر اس وائرس کا مقابلہ کریں  لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ہم اس دن کو علامتی انداز میں نہ منا کر اس کی روح کے ساتھ منائیں کہ یہ محض ایک علامتی  رسم نہیں ہے بلکہ امت مسلمہ کا وہ راستہ ہے جو قبلہ اول کی صہیونیوں سے رہائی پر منتہی ہوتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 حواشی :

[1] ۔ nathanlewin

[2]  ۔ forward۔ Forward / June 7/2002

[3]  ۔ shma

[4]  ۔ Seattle Times / March 5, 1994 p. A6

[5]  ۔ Israeli Holocaust Against the palestinians

[6]  ۔ michaelhoffman&moshe Lieberman
 

Alison Weir

Against our better judgment: the hadden history of how the U.S was used to create Israel [7]

/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پربحث
پسندیده خبریں