
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آیت الله عبد الله جوادی آملی نے اپنے سلسلہ وار تفسیر قرآن کریم کے درس میں جو مسجد آعظم حرم مطھر حضرت معصومہ قم(س) میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوا کہا: فیض رساں وجود کے لئے لازمی ہے کہ جس تک فیض پہنچنا ہے اس سے بالاتر ہو ، کبھی کوئی قاصد اور کتاب رساں ہے یہ انسان اس سامان کے پہونچانے کا وسیلہ ہے اور وہ اس کتاب کے اندر موجود باتوں سے بھی بے خبر ہے ، کیوں کہ وہ فقط اس کتاب کو پہونچانا چاھتا ہے مگر فیض الھی کو پہنچانے والا وجود چاھے وہ انسان ہو چاھے فرشتہ لازمی ہے کہ جس تک فیض پہنچنا ہے اس سے بالاتر ہو ، کیوں کہ ممکن نہیں ہے کہ فیض پہنچانے والا جس تک فیض پہونچنا ہے اس سے کم مرتبہ ہو، لھذا ھم پیغمبروں(ص) اور اهل بیت(ع) تک فیض پہونچانے کا ھرگز وسیلہ نہیں بن سکتے ۔
انہوں ںے آیۃ شریفہ «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَى النَّبِیِّ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا» کی تفسیر میں بیان کیا : نبوت کے مقام کی بلندی نے صلوات کی دنیا میں فرشتوں کو خداوند متعال کے قریں کیا تاکہ خدا کے ساتھ ساتھ وہ بھی انبیاء الھی پر درود بھیجیں ، مگر مومنین کے سلسلہ میں «هُوَ الَّذِی یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُهُ» خداوند متعال نے خود کو فرشتوں سے الگ کرلیا اور یہ پیغمبر اسلام(ص) کی منزلت کی نشانی ہے کہ ان پر صلوات بھیجنے والے فقط فرشتے ہی نہیں ہیں بلکہ خدا بھی درود بھیجنے والوں میں شریک ہے ۔
پردہ کی حفاظت کرو تاکہ غنڈوں اور بدمعاشوں سے محفوظ رہ سکو
انہوں ںے آیت شریفہ «إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِینًا» کی تفسیر میں کہا: خدا کو تکلیف دینا اس کے احکام اور اس کی شریعت کی توھین ہے اور پیغمبروں کی تکلیف پہونچانا ان کی اطاعت نہ کرنا، ان سے بد سلوکی اور ان کا احترام نہ کرنا ہے ، انبیاء علیھم السلام کو تکلیف دینے والوں کے لئے ایک مرتبہ خداوند متعال نے کہا کہ ان تک رحمت نہیں پہونچے گی ، اور کبھی فرمایا کہ رحمت کا پہونچنا تو دور عذاب الھی بھی ان کے قریب ہے ، اور پھر فرمایا کہ جو لوگ مومن مرد اور عورت کو برے کام کے انجام دئے بغیر تکلیف دیتے ہیں یہ سب کے سب عذاب الھی کے قریب ہیں ۔
حضرت آیت الله جوادی آملی نے آیه « یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْهِنَّ مِن جَلَابِیبِهِنَّ ذَلِکَ أَدْنَى أَن یُعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِیمًا» کی جانب اشارہ کیا اور کہا: خداوند متعال کا فرمان ہے کہ اے پیغمبر(ص) مومن عورتوں اور لڑکیوں سے کہو کہ اپنے پردہ کا خیال رکھیں، یہ صحیح کہ عظمت و احترام پیغمبر(ص) کی سب حفاظت کریں مگر پیغمبر اسلام(ص) کی بیویاں بھی اپنے پردہ کا خیال کریں، اور اس لئے کہ پاک دامن خواتین بد نفس انسانوں کی تکلیف کا شکار نہ ہوں اپنے پردہ کا خیال رکھیں، قرآن کریم میں لفظ (جلباب) نقاب کے معنی میں ہے، یا وہ بڑا کپڑا ہے جس کے سلسلہ میں خداوند متعال کا فرمان ہے کہ اپنے کپڑے بڑے پہنئے تاکہ ان کی شناخت نہ ہوسکے اور کوئی انہیں نہ دیکھ سکے جو ان کے پردہ کی نشانی ہے اور وہ اس سے غنڈوں ، بدمعاشوں اور لفنگوں کی تکلیفوں سے دور رہتی ہیں ۔