‫‫کیٹیگری‬ :
10 September 2013 - 16:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5911
فونت
رہبر معظم انقلاب اسلامی:
رسا نیوز ایجنسی – رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے ملک بھر کے آئمہ جمعہ سے ملاقات میں مغربی ممالک کے اسلام کے ساتھ دیرینہ مقابلے کی روشنی میں ملکی اور عالمی مسائل پر طویل المدت نقطہ نگاہ کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: عالم اسلام اور علاقہ کی موجوہ صورتحال نے مغربی ممالک کو شکست خوردہ اور پسماندہ تصور کرنے پر مجبور کیا ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامي کي ائمہ جمعہ سےملاقات

 

رسا نیوز ایجنسی کی رہبرمعظم انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے کل پیر کے دن، ظہر سے پہلے ملک بھر کے آئمہ جمعہ  کے ساتھ ملاقات میں نماز جمعہ کو ایک اہم دینی ، عوامی اور حکومتی نیٹ ورک قراردیا اور ملکی ، علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں بلند مدت اور طویل المدت نقطہ  نگاہ کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سیاستدانوں ، سفارتکاروں، حکومت ، حکام اور عوام  کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے بارے میں امریکی اور مغربی ممالک کے فریب، پیچیدہ رفتار اور تحرکات کو اسلام کے ساتھ مغربی ممالک کے دیرینہ مقابلے کے دائرے میں اور حقیقت بین نگاہ کے ساتھ جائزہ لیں ورنہ ہم دشمن کی حکمت عملی  اوراس کی اسٹراٹیجک پالیسی کے مقابلے میں ،حتی دشمن کی شناخت کے بارے میں اشتباہ اور خطا میں مبتلا ہوجائیں گے۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملکی اور عالمی مسائل پر بلند مدت نگاہ رکھنے کی اہمیت کی علت کی تشریح میں حالیہ چند صدیوں کے دوران مغربی ممالک کے اسلام کے ساتھ بنیادی طور پرمقابلے  اور اس مقابلے میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے نقطہ عطف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک نے مشرقی ممالک  منجملہ اسلامی ممالک  پراپنے تسلط اور  استعمار کے دوران  اپنے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تسلط کو فروغ دیا ، اور علمی و سائنسی ترقیات کی بدولت یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مغربی دنیا تمام محاسبات اور اندازوں کا اصلی نمونہ ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اہل مغرب نے حتی جغرافیائی محاسبات کو بھی مغربی دنیا کی برتری اور اصل کی بنا پر تبدیل کردیا اورانھوں نے اس طرح  مشرق قریب، مشرق وسطی اور مشرق بعید جیسی غلط اصطلاحوں کی بنیاد ڈال دی ۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استعمار کے دوران مغرب کی قیّم مآبانہ اور مطلق حاکمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جب ایران سمیت تمام ممالک مغرب کے تسلط کے پنجے میں تھے ایسے شرائط میں  قرآنی اصول و اقدار کے فروغ اور مطلق استقلال کے ساتھ  ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہوا جس نے مغربی ممالک کی تاریخی حیثیت پر کاری ضرب وارد کی ۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام اور علاقہ پر انقلاب اسلامی کے اثرات اور انقلاب کی طرف سے قوموں کو دینی اور اسلامی تشخص کے عطا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے اسلامی  انقلاب کے تدریجی اثرات و تشخص کے فروغ سے مغربی ممالک خوفزدہ اور پریشان ہوگئے اور انھوں نے اسلامی فکر کے عمیق اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے نئے پروگرام اور پیچیدہ منصوبے مرتب کرلئےہیں ۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اب عالم اسلام اور علاقہ میں ایسے حالات اور شرائط موجود ہیں جن کو دیکھ کر مغربی ممالک خود کو شکست خوردہ اور پسماندہ  تصور کررہے ہیں اور اسی وجہ سےوہ اس شکست و پسماندگی کو دور کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کررہے ہیں ۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایسے شرائط میں اسلامی بیداری کی تحریک کا بھی علاقہ میں آغاز ہوگیا اور مغربی ممالک جو انقلاب اسلامی کے ساتھ مقابلے میں خود کوشکست خوردہ اور پسماندہ تصور کررہے تھے وہ سراسیمہ ہوکر سیاسی اسلام اور اسلامی بیداری کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں پہنچ گئے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی حوادث کو اس زاویہ نگاہ سے تجزیہ و تحلیل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حکومت، حکام، سیاستدانوں، سفارتکاروں اور قوم کے ہر فرد کوصحیح اور جامع نقطہ نظر کے ساتھ حقائق کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا توہم حقائق کو نہیں سمجھ پائیں گے اور دھوکہ کھا جائیں گے اور نقصان بھی اٹھائیں گے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام کے مادی دنیا کے ساتھ مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک فتح الفتوح قراردیتے ہوئے فرمایا: یہ فتح الفتوح اسی طرح طاقت و قدرت اور استحکام کے ساتھ موجود ہے اورتمام اداروں کی طرف سے اندرونی انسجام ، اسلام کے اقدار اور اصول پر عمل و پائبندی یقینی طور پر اس اقتدار اور فتح الفتوح کو ناقابل آسیب بنا دےگی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مغربی دنیا کے مقابلے میں عزت اور اقتدار سے رہنا چاہیےکیونکہ مغرب والون نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی پر رحم نہیں کرتے اور بظاہر ،انسانی حقوق کے کھوکھلے دعوؤں کے باوجود، ان کی روح کئی ملین افراد کو قتل کرنے سے بھی متاثر نہیں ہوتی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جھوٹ اور متضاد بیانات کو مغربی سیاستدانوں کی خصلت کا حصہ قراردیتے ہوئے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک ہیرو شیما کے قتل عام  اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں قتل عام اور پاکستان، افغانستان اور عراق کے بےگناہ عوام کے قتل عام پر نہ تو پشیمان ہیں اور نہ ہی کسی درد و  ناراحتی کا احساس کرتے ہیں اور آئندہ بھی جہاں کہیں ان کے مفادات ہوئے وہاں وہ انسانوں کے قتل عام سے دریغ نہیں کریں گےلہذا ہمیں ان حقائق کے پیش نظر مختلف سیاسی، حکومتی اور معاشی میدانوں میں اپنے اندرونی اقتدار میں اضافہ کرنا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں نماز جمعہ کو ایک گرانقدر دینی، حکومتی اور عوامی نیٹ ورک قراردیتے ہوئے فرمایا: نماز جمعہ آج اسلامی و معنوی حقائق کے بیان، عوام کے جوش و جذبہ کا مظہر اور اسلامی حکومت سے منسلک ایک شاندار ترکیب ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے اسلامی حکومت سے منسلک ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بعض افراد کے تصور کے بر خلاف ،حکومت کی ذمہ داری صرف  عوام کے سیاسی استقلال ، آزادی اور فلاح و بہبود کے بارے میں ہی نہیں بلکہ حکومت عوام کے دین اور اعتقادات کے بارے میں بھی ذمہ دار ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ اہم نیٹ ورک عوامی، سیاسی ، حکومتی اور اسلامی ہونے کے باوجود سیاسی احزاب اور عوامی حدبندیوں میں داخل نہیں ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی اصول و اقدار کے بارے میں بھی نماز جمعہ کی اہم ذمہ داری ہے اورنماز جمعہ کو  عقلی و فطری اصول پر مبنی  اسلامی اقدار پر پائبند رہنا چاہیے ۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آئمہ جمعہ کو مختصر اور مفید خطبہ دینے اور وعظ و نصیحت کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: نماز جمعہ کے خطبوں میں مخاطبین بالخصوص جوانوں کے ذھن میں موجود سیاسی، اعتقادی اور عملی میدانوں کے بارے میں سوالات اور شبہات کے بارے میں جواب دینے کی تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے خطبوں کو اسلامی نظام کے ساتھ عوام کے رابطہ کو مضبوط و مستحکم بنانے اور آئمہ جمعہ کو عوام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطہ قائم کرنے نیز طلباء اور جوانوں کی گفتگو کو سننے کے بارے میں سفارش کی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمایا:  نماز جمعہ کے خطبوں میں زندگی کی روش اور اس سلسلے میں موجود اور مستند حقائق کے بارے میں  سنجیدگی کے ساتھ بحث و گفتگو کرنی چاہیے۔

 

اس ملاقات کے آغاز میں ملک بھر کے آئمہ جمعہ کی پالیسی کونسل کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسملین تقوی نے آئمہ جمعہ کے بائیسویں سمینار کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس وقت ملک کے 750 علاقوں میں ہر ہفتہ نماز جمعہ منعقد ہورہی ہے۔

 

انھوں نے ملک میں اتحاد کی تقویت ، سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں نظام کی پالیسیوں کی تشریح ، دین و معنویت کے فروغ میں تعاون، عوام کے ساتھ قریبی رابطہ، ملک کے مختلف نقاط میں اجرائی حکام کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں تلاش و کوشش کو ملک بھر کے آئمہ جمعہ کے منصوبوںکا اہم حصہ قراردیا ۔
 
 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬