
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام ڈی چوک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منعقد ہونے والے قومی امن کنونشن کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، اس میں ملک بھر میں محبان وطن قوتوں کو یکجا کرنے، بلاتفریق مذہب و مسلک وطن عزیز کو بچانے کی جدوجہد ، پاک فوج کو عزت اور وقار عطا کرنے، اور اس کو اس کا حقیقی مقام دلانے ، ملک بھر میں حقیقی عوامی قوتوں کی تائید و حمایت سے دہشتگردوں کیخلاف بے رحمانہ آپریشن کا ماحول مہیا کرنے، دہشتگردوں اور فرقہ پرستوں کو تنہا کرنے اور ہر اس عمل کیخلاف عوامی جدوجہد کا اعلان کیا گیا جس کا ہدف دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کو حکومت میں شامل کرنا ہو۔
اس اعلامیہ میں شہداء کے مقدس لہو سے تجدید عہد کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ اس خون پر سمجھوتہ نہیں کرنے دیں گے ، قاتلوں کو جو پاکستان کے قاتل ہیں معاف نہیں کریں گے ، کسی صورت ان کے اہداف کی تکمیل نہیں ہونے دیں گے اور ملک کے چاروں صوبوں اور پھر ضلعی سطح پر مشترکہ امن کانفرنسز کا انعقاد کریں گے۔
اعلامیہ میں کہا گیا : وطن عزیز میں غیر ملکی مداخلت اور امریکی و سعودی اہداف کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ماہ ربیع الاول کو ماہ امن و محبت و استحکام پاکستان کے طور پر مناتے ہوئے تمام عاشقان رسول (ص) میلاد النبی (ص) کو تاریخی شرکت سے منائیں گے۔
مشترکہ اعلامیہ میں ایا ہے : آئین پاکستان سے غداری کی اجازت نہیں دیں گے ، مسلم لیگ نون کی حکومت کو سیاسی طالبان قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ٹف ٹائم دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ محب وطن کونسل کے قیام کا اعلان کرتے ہیں جس میں ملک بھر سے تمام معتدل مذہبی و سیاسی و سماجی قوتوں کو اکٹھا کریں گے اور وطن عزیز کے طول و عرض میں وطن پرستی کے پیغام کو پھیلائیں گے۔ آج سے ایک ایسی جدوجہد کا اعلان کرتے ہیں جس کا ہدف پاکستان کو بچانا ہے۔ اس تحریک کو نبی اکرم (ص) کے مقدس نظام کی رہنمائی میں چلائیں گے۔