24 April 2016 - 16:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422229
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان:
سرزمین پاکستان کے شیعہ رھنما حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی نے اپنے جاری کردہ بیان میں تاکید کی : پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کے اعلان خوش آئند ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی



رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی نے اپنے جاری کردہ بیان میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ حزب اختلاف کی آراء کو بھی مدنظر رکھا جائے، معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے کمیشن کے ٹی او آرز کے حوالے سے اپوزیشن کو نظر انداز کیا گیا تو یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا کہا: فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کے لئے اب عملی اقدامات بھی اٹھانا ہوں گے۔


قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن کا فیصلہ حکومت نے کیا اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے باضابطہ خط بھی لکھا، کیونکہ عدلیہ ہی اس کام کو بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہے کہا: لیکن محترم چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن اس وقت موثر ثابت ہوگا، جب ملک کی اکثریت میں اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا اور حکومت اپوزیشن کو اس معاملے پر قائل کرنے میں مکمل کامیاب ہو جائے گی ۔


انہوں نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو چاہئے کہ اس معاملے پر مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کی آراء پر غور کرے اور کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کے حوالے سے اپوزیشن کی آراء شامل کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لے تاکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے آگے بڑھے اور مستقبل کا لائحہ عمل تجویز کرے کہا: اگر معاملے پر اتفاق رائے قائم نہ کیا گیا تو پھر مسائل بڑھتے جائیں گے اور اس نظر اندازی کے باعث کمیشن کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔


حجت الاسلام والمسلمین نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ ہمیں اب ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا جس میں مستقبل میں اس طرح کے اسیکنڈلز سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ سکے کہا : ملک پاکستان فلاحی ریاست کے تصور کے ساتھ ابھرا تھا، جو شائد اب دھندلا چکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اگر ملک کے وسیع تر مفاد میں اس معاملے پر کثرت رائے قائم کر لی جائے تو فلاحی ریاست کا تصور عملی شکل اختیار کرلے گا، جس سے ملک کا مستقبل تابناک اور روشن ہو جائے گا ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬