17 January 2017 - 18:54
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425750
فونت
ایران کے صدر جمہور پریس کانفرنس میں :
ایران کے صدر جمہور پریس کانفرنس میں خطے میں ایران کی اقتصادی ترقی کو بی نظیر جانا ہے اور اعلان کیا ہے کہ جوہری معاہدہ صرف حکومت کی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ ایرانی قوم کی کامیابی ہے ۔
حجت الاسلام حسن روحانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر جمہور حجت الاسلام والمسلمین حسن روحانی نے آج اپنے پریس کانفرنس میں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی مرحوم کے ساتھ کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے وضاحت کی : اگر چہ ہاشمی رفسنجانی مرحوم ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن اس کی میانہ روی راہ و روش مشکلات کو حل کرنے کے لئے ویسے ہی راستہ ہموار کرے گا ۔

انہوں نے کہا : ہم سیاسی لحاظ سے بھی کامیاب ہوگئے ہیں اور دنیا کو بتادیا ہے کہ ایران کوئی خطرہ نہیں جس کو روکنے کے لئے عسکری راستے کا استعمال کیا جائے۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے کہا : اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے کے تعلق سے امریکا کی وعدہ خلافیوں کا مقابلہ کرے گا ۔

انہوں نے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کو ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک پریس کانفرنس میں امریکا کی وعدہ خلافیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا : ایران کی حکومت اورعوام امریکی وعدہ خلافیوں کے مقابلے میں پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران کے قومی مفادات کے تحفظ سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ 

ایران کے صدر جمہور نے پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی کامیابیوں اور ایٹمی معاہدے کا ذکرکرتے ہوئے وضاحت کی : ایٹمی معاہدہ شہیدوں ایرانی عوام سے متعلق  اور ایک عظیم  قومی سرمایہ ہے ۔

انہوں نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی بھی ایٹمی اور عام تباہی پھیلانےوالے ہتھیار بنانے کی کوشش میں نہیں رہا ہے اور نہ رہے گا کہا کہ ایران کے ذریعے ایٹمی ہتھیار بنانے کے سلسلے میں  جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ سب جھوٹ  تھا اور ایٹمی معاہدے نے ایران کی حقانیت کو ثابت کردیا ہے ۔

حسن روحانی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : ہم نے بارہا اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ ایران ہرگز جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش نہیں رکھتا کیونکہ ہم اس اقدام کو غیراخلاقی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا : ہماری جوہری سرگرمیوں کا مقصد ملک کو ترقی اور پیش رفت کی جانب گامزن کرنا ہے اور مزید برآن ایران پرامن جوہری پروگرام کے ذریعے صحت اور زراعت میں بھی زیادہ پیشرفت اور ترقی کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

ایران کے صدر جمہور نے بیان کیا : ایران کی موجودہ اقتصادی ترقی کی شرح ۴ اشاریہ ۷ فیصد ہے اور یہ خطے میں مثالی ترقی ہے جو پوری دنیا میں بھی اس کی مثال کم ہے۔

انہوں نے کہا :یورنیم کی افزودگی کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ کی پوزیشن واضح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ہماری قوم کا حق ہے۔

صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کے چھٹے منشور سے ایران کے باہر نکلنے کا ذکرکرتے ہوئے کہا : یورینیم کی افزودگی ایرانی عوام کا حق ہے اور اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو سرکاری طور پر تسلیم کرلیا ہے۔

ایران کے صدر جمہور نے بیان کیا : ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد  ایٹمی معاملے سے متعلق  ایران مخالف سبھی  پابندیاں ختم اور منسوخ  ہوگئی ہیں۔

انہوں نے ایران کو علاقے اور دنیا کا ایک بااثر ملک قراردیتے ہوئے کہا : دنیا کے مختلف مسائل میں ایران تعمیری کردار ادا کرنےوالا ایک اہم ملک شمار ہوتا ہے اور علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کے میدان میں ایران کی عدم موجودگی پوری دنیا کے لئے ایک بڑا نقصان ہے ۔

حسن روحانی نے ایرانوفوبیا کی پالیسوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا : ایران علاقے اور دنیا میں امن و سلامتی کا خواہاں  ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : آج ایران تیل، گیس، ٹرانسپورٹیشن اور انشورنس کے شعبوں میں کسی بھی پابندی کا سامنا نہیں کر رہا اور بینکاری لحاظ سے بھی نامور اور مشہور علاقائی اور عالمی بینکو کے ساتھ تعلقات اور مشترکہ تعاون معمول پر آگئے ہیں۔

ایران کے صدر جمہور نے بیان کیا : بعض عالمی بینکوں نے حد سے زیادہ احتیاط دیکھائی جبکہ بعض بڑے ممالک بالخصوص امریکہ نے بھی جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے روڑے اٹکائے۔

انہوں نے کہا : امریکہ نے جوہری معاہدے کے نفاذ کے مراحل میں کئی بار روڑے اٹکائے مگر اس کے باوجود آج ایرانی قوم اقتصادی لحاظ سے ایک اچھی پوزیشن کے مالک بن گئی ہے۔

حسن روحانی نے بیان کیا :  کسی بھی بین الاقوامی معاہدے میں اگر ایک فریق بھی ہو تو بھی اس میں مشکلات کا باقی رہنا خارج از مکان نہیں جبکہ ہم نے چھ عالمی ممالک کے ساتھ معاہدہ کیا اور یہ معمولی بات ہے کہ کچھ مشکلات باقی ہوں مگر ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔

انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ایران کی سعودی عرب سے کوئی خاص مشکل نہیں ۔ اور ایک اسلامی ملک کے عنوان سے ہم سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن سعودی عرب کی خطے میں غلط پالیسیاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

ایران کے صدر جمہور نے بیان کیا : سعودی عرب کی شام ، عراق، لیبیا ،یمن اور دیگر اسلامی ممالک میں بے جا مداخلت  اور امریکہ و اسرائیل کی ہمراہی ایران اور سعودی رعب کے درمیان اختلاف کا اصلی سبب ہے اور سعودی عرب کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت بھی اس کی غلط پالیسی کا مظہر ہے۔

حسن روحانی نے کہا : سعودی  عرب اگر اپنی پالیسیاں درست  کرلے اور صحیح اور درست راستہ اختیار کرلے اور ہمسایہ ممالک پر رعب و دبدبہ جمانے  اور جنگ مسلط کرنے کی پالسی ختم کردے تو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات استوار کئے جاسکتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے تاکید کی : کئی ممالک نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی اور کم سے کم دس ممالک ہیں جنھوں نے اس سلسلے میں وساطت کی پیش کی ہے لیکن یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب سعودی عرب یمن کے خلاف جنگ بند کردے ، ہمسایہ ممالک میں مداخلت متوقف کردے اور دہشت گردوں کی حمایت بھی ترک کردے۔

انہوں نے بیان کیا : ایران خطے میں پائدار امن کا خواہاں ہے کیونکہ پائدار امن کے سائے میں ہی علاقائی ممالک اقتصادی ترقی حاصل کرسکتے ہیں جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے سعودی عرب امریکہ کو مسلسل تعاون فراہم کررہا ہے۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی رحلت کا ذکرکرتے ہوئے ان کے کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی نمازجنازہ اورآخری رسومات میں ایرانی عوام کی بھرپورشرکت پر سب کا شکریہ ادا کیا ۔  

انہوں نے کہا : سابق ایرانی صدر اور امام خمینی (رہ) کے دیرینہ ساتھی آیت اللہ رفسنجانی کے انتقال کے بعد ایرانی قوم نے ایک بار پھر انقلاب اور نظام کے اعلی رہنماوں سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے مرحوم سے متعلق تمام پروگراموں میں تاریخی شرکت کی۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے بیان کیا : آیت اللہ رفسنجانی کے لئے ایرانی عوام کا نکلنا سیاسی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے اور ہمیں دیکھایا کہ ایرانی قوم آخری دم تک اسلامی انقلاب اور نظام کے رہنماؤں کے ساتھ ہے۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۱۲۴۸/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬