‫‫کیٹیگری‬ :
16 March 2017 - 19:22
News ID: 426920
فونت
چیئرمین ٹی ایچ آر علامہ امیر حمزہ نے کہا کہ جن بلاگرز کو گرفتار کیا گیا تھا انہیں بعد میں سیاسی مداخلت کے بعد رہا کر دیا گیا جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بلاگرز گستاخانہ پیجز بنانے میں ملوث تھے انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان واپس لایا جائے اور جو یہاں پر موجود ہیں ان سب پر ۲۹۵ سی کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۷ مارچ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا جبکہ بلاگرز کی گرفتاری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تحریک حرمت رسول کے اراکین

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  تحریک حرمت رسول (ص) کے چیئرمین  امیر حمزہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز پیجز بنانے والے بلاگرز پر فوری طور پر 295 سی کا مقدمہ درج کیا جائے جبکہ 17 مارچ کو ملک گیر یوم احتجاج منایا جائے گا اور بلاگرز کی گرفتاری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لاہور پریس کلب میں تحریک حرمت رسول (ص) کے چیئرمین علامہ امیر حمزہ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ پیجز بنانے کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس میں ابتسام الہیٰ ظہیر، جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اور قاری یعقوب شیخ سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ 

ابتسام الہیٰ ظہیر نے کہا کہ شان رسالت (ص) میں گستاخی کرنیوالوں سے متعلق کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ اس کیس میں جسٹس شوکت صدیقی نے ایمان افروز کردار ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کیلئے جو کوششیں اب کی جا رہی ہیں یہی کوششیں پہلے ہونی چاہیں تھیں جبکہ حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ سائبر کرائم کے بل میں تمام انبیاء کی توہین کے حوالے سے سخت سزا کی شق شامل کرے۔

 امیر حمزہ نے کہا کہ جن بلاگرز کو گرفتار کیا گیا تھا انہیں بعد میں سیاسی مداخلت کے بعد رہا کر دیا گیا جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بلاگرز گستاخانہ پیجز بنانے میں ملوث تھے انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان واپس لایا جائے اور جو یہاں پر موجود ہیں ان سب پر 295 سی کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 17 مارچ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا جبکہ بلاگرز کی گرفتاری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ /۹۸۹/ ف۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬