06 April 2017 - 10:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427326
فونت
ہندوستان کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں گئو رکشک کے نام پر غنڈہ گردی کے الور حادثے پر زبردست ہنگامہ ہوا ۔
الور حادثے

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ڈیگ وجے سنگھ نے الور حادثے معاملہ کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ گئو رکشک کے نام پر غنڈہ گردی کی گئی۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی اس حادثے پر حکومت کی بے عملی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت اس طرح کے معاملے پر لاپرواہی سے کام لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملوں کے بارے میں بی جے پی کے علاوہ پورے ہندوستان کو معلوم ہوتا ہے۔

الور حادثے پر کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھی اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے طنز کیا اور کہا کہ جو آر ایس ایس اور وزی راعظم مودی کی نہیں سنتا اور ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتا ان کے حامیوں کی نگاہوں میں اس کے لئے ہندوستان میں جگہ نہیں ہے۔

دوسری جانب راجیہ سبھا میں مرکزی وزیرمختار عباس نقوی نے حزب اختلاف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور حکومت ایسی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا بھی پیغام نہیں دینا چاہئے کہ ہم گائے کشی کے حامی ہیں۔

اس درمیان نام نہاد گئو رکشکوں کے حملے میں مارے گئے پہلو خان کے بیٹوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم قانونی طریقے سے گائے خرید کر لا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جے پور نگرنگم کی سیریل نمبر والی رسید بھی ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم قانونی طریقے سے گائے خرید کر لا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم گائے کے اسمگلر نہیں ہیں، ہم صرف گائے کا دودھ بیچنے کے لئے یہ گائے خرید کر لا رہے تھے۔

یاد رہے کہ منگل کو پہلوخان نام کے مسلمان شہری کو جن کا تعلق ریاست ہریانہ سے تھا،  بے دردی کے ساتھ پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والے چھے ملزمان کو راجستھان پولیس اب تک گرفتار نہیں کر سکی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬