‫‫کیٹیگری‬ :
23 October 2017 - 10:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430492
فونت
آیت ‎الله جوادی آملی:
مفسر عصر حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے یہ کہتے ہوئے کہ خدا کو بلند ہمت ، بلند فکر اور بلند نظریہ پسند ہے اور اسے جامہ عمل پہنانے میں انسانوں کی مدد کرتا ہے کہا: انسان زمین پر خلیفہ اللہ ہے اس الھی خلافت کی بقا میں کوشاں رہے ۔
آیت ‎الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آیت الله عبد الله جوادی آملی نے اپنے تفسیر قران کریم کے درس میں جو مسجد آعظم قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوا کہا ، سورہ مبارکہ «الرحمن» کی ابتدائی آیات کی تفسیر کی اور کہا: سورہ مبارکہ «الرحمن» دو اہم اصول، جس کا تمام قران کریم میں تذکرہ ہے کا بیان گر ہے ، ایک خدا کی خلاقیت «الله خالق کلی شیء» دوسرے اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے سب کا سب خدا کی خلاقیت و صناعیت کا مظھر ہے «الذی أحسن کل شیء خلقه»، یہ سورہ بیان گر ہے کہ اس کی صناعیت خدا «الرحمن» کے ہاتھوں ہے ، دنیا کا نظم و عدل رحمانیت خداوند کا آئینہ دار ہے ، دنیا میں نظم کی حکمرانی ہے اور اس نظم و ضبط کی اصل و اساس عدالت ہے کیوں کہ «الرحمن» کے کام میں کسی قسم کی بے نظمی و بے عدالتی موجود نہیں ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: ہر چیز کو اپنا مقام حاصل ہے ، اگر دنیا میں ہمیشہ فقط دن یا رات ہوتی تو زندگی سخت و دشوار ہوجاتی ، دن و رات دونوں کا ہونا بہترین نظم عالم کا بیان گر ہے کہ جسے سورہ رحمن کی بعد کی آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔

عصر حاضر کے عظیم المرتبت مفسر قران کریم نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ خداوند متعال نے فرمایا کہ میں نے انسان کو قران کی تعلیم دی اور پھر اسے بیان کرنا سیکھایا کہا: زبانوں کے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنا مدعا بیان کرنے کی تعلیم دی ، بیان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اندر موجود چیزوں کو زبان سے بیان کرسکے چاہے قلم کا استعمال کرکے تحریر کے ذریعہ اپنا مدعا بیان کرے ۔

انہوں نے آیت کریمہ «الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ» کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : سورج و چاند حساب شده اور دقیق کام کرتے ہیں ، کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ کسی ایک سے ایک لمحہ بھی آگے یا پیچھے ہوجائے ، ہر ایک اپنی جگہ پر ہے ، اس کا سرانجام یہ ہے کہ کونسا درخت اُگے اور کون سا نہ اُگے ، کون کس قدر رشد کرے اور کون نہ کرے ، یہ تمام کا تمام نظم الھی کے سبب ہے ، اس نے اپنی خلاقیت کے بارے میں فرمایا کہ میں نے جو کچھ بھی پیدا کیا بہترین شکل میں پیدا کیا ، اور چونکہ تم میرے خلیفہ و جانشین ہو تم بھی اپنے کام بہترین شکل و شمائل میں انجام دو ، میں نے باحسن وجہ تخلیق کی تم بھی باحسن وجہ عمل انجام دو ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے یاد دہانی کی : بہت سارے کام حلال و جائز ہیں مگر انسان ہر حلال کام کو نہیں کرسکتا بلکہ بہترین اور حلال ترین کام کو انجام دے ، جو لوگ توانائی رکھتے ہیں وہ اپنی عمریں موبائل ، پیپر بازی اور سوشل میڈیا میں ضائع نہ کریں کیوں کہ عمر کو ضائع کرنے سے روکنے کے لئے کوئی شرعی طریقے موجود نہیں ہیں ، ہمیں نماز و روزہ کے طرح عمر کو  ضائع سے روکنے کے لئے آیات کے نازل ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے ، خدا کی دی ہوئی اچھی توانائی و صلاحیت کے باوجود تعلیم میں دل لگانے کے بجائے روٹیاں بیچنا ، عمر کو ضائع کرنا ہے ۔

انہوں نے بیان کیا: اگر ابدیت کے سوا کچھ بھی سوچیں گے تو اپنی عمر ضائع کریں گے ، گفتگو حضرت نوح کی ہزاروں سال کی طولانی عمر کی نہیں ہے کہ جس کے بعد موت موجود ہے بلکہ ابدیت و جاودانگی کی ہے ، اگر ہم ابدی موجودات میں سے ہیں تو ہمیں کام بھی ابدی کرنا ہوگا ، خدا و اسماء حسنی ، اولیاء الھی اور اہل بیت علیھم السلام کے سوا کچھ ابدی نہیں ہے ، کیوں کہ یہ لوگ وجہ اللہ ہیں ، قران کریم کی تمام کوشش یہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے خلیفہ کے روپ میں ڈھال دے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے طلاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ بہترین طریقے سے حوزہ علمیہ چلائیں ، خوب  پڑھیں اور اپنی عمر سے بخوبی استفادہ کریں ، ہم بہت ساری دعاوں میں کہتے ہیں کہ خدا ہمیں رسول اسلام اور ائمہ طاہرین و حضرت امام حسین علیھم السلام کے ساتھ محشور کرے تو کہیں ایسا نہ ہو فقط بہشت میں جاکر رہ جائیں اور کبھی کبھی آپ کا دیدار ہو بلکہ ہم خود کو ایسا بنائیں کہ جس وقت اور جب بھی چاہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو جاسکیں ، خدا کو بلند ہمت ، بلند فکر اور بلند نظریہ پسند ہے اور اسے جامہ عمل پہنانے میں مدد کرتا ہے ۔ /۹۸۸/ ن۹۷۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬