07 November 2017 - 21:36
News ID: 431706
فونت
ایرانی وزیر دفاع :
ایرانی جنرل نے کہا کہ ہم نے علاقائی امن اور استحکام کے تناظر میں پاکستان کی دفاعی اور فوجی طاقت کی کامیابیوں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔
 امیر حاتمی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار بریگیڈیر جنرل امیر حاتمی نے منگل کے روز ایرانی دارالحکومت تہران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوا کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

جنرل امیر حاتمی نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی تعلقات کے فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہو‏ئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے اہم اصولوں میں سے ایک علاقائی ممالک کی سالمیت اور قومی اتحاد کا احترام کرنا ہے اسی لیے ہم پاکستان کی سیکورٹی کو ہماری سیکورٹی جانتے ہیں۔

انہوں نے علاقائی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی صورتحال میں پاکستانی آرمی چیف کے دورہ تہران استحکام، سیکورٹی اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بن سکتا ہے۔

ایرانی وزیر نے ہماری پالیسی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بڑھانے کو ایران کی اہم پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور ثقافتی، مذہبی، تاریخی مشترکات کی وجہ سے ایران کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔

ایرانی جنرل نے کہا کہ ہم نے علاقائی امن اور استحکام کے تناظر میں پاکستان کی دفاعی اور فوجی طاقت کی کامیابیوں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت کو ایران اور پاکستان کی باہمی مدد کے ساتھ اس ملک کے ہونے والے 38 سالہ بحران ختم اور خطے میں امن اور سلامتی قائم ہوجائے گا۔

جنرل حاتمی نے علاقائی امن کے عدم استحکام کے لیے عالمی سامراج کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بعض ممالک امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کے جال میں پھنس گئے ہیں اور افغانستان، عراق پر حملہ کرنا اور داعش کی تخلیق کے بعد خطی ممالک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو یہ خطے اور اسلام کی شایان شان نہیں ہے۔

انہوں نے امریکہ اور جابر صہیونی کو دہشتگردی کے سب سے بڑے اور خطرناک حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی امریکی سیاستدانوں اور وائٹ ہاوس کے حکام کی تخلیق ہے اور وہ دہشتگردی سے نمٹنے کے بہانے سے اسلامی ممالک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ اور صہیونی ریاست کے ظالمانہ عزائم کے خلاف ایران کی مزاحمت کو ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی اصلی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقائی ممالک کی سالمیت اور امن کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔

اس موقع میں جنرل باجوا نے دونوں ممالک کے مابین گہرے تعلقات اور مشترکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ میں نے اس سے پہلے کہا دونوں ممالک کو مشترکہ دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہے اور پاکستانی قوم ایرانی عوام کا بہت احترام کرتا ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدوں کی سلامتی کی فراہمی کو پاکستانی پالیسی کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ سرحدوں میں امن اور استحکام کے قیام سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اقتصادی تعلقات کے فروغ دینے کے لیے مواقع میسر ہوگا۔

پاکستانی جنرل نے امت مسلمہ کے درمیان مسائل کے حل کے لیے باہمی اتحاد اور یکجھتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی ایسی حساس صورتحال میں اسلامی ممالک کو سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے اتحاد کو تحفظ کرنا چاہیے۔ /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬