
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبے کرمانشاہ کے گورنرہوشنگ بازوند نے نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارروائیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ جس میں فوج ،سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اوررضا کار فورس کے نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق اب تک 141 افراد کی لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے اور زلزلے کی شدت کے پیش نظر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ زلزلے میں 1684 افراد زخمی ہوئے۔
کرمانشاہ کے گورنر کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو اطراف کے شہروں میں منتقل کیا گیا ہے۔
کرمانشاہ میں بجلی کی سپلائی معطل ہے۔ زلزلے کی وجہ سے لوگوں نے رات گھروں سے باہر گزاری۔
کرمانشاہ کے گورنر نے صوبے میں 3 روزہ عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔
در ایں اثنا ایران کے وزیر داخلہ رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ صدر مملکت کے حکم کے مطابق فوری طور پر زلزلہ زدہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اور 145 ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کل رات ایران کےایران کے مغربی علاقوں خاص طور سے کرمانشاہ اور کردستان میں ریکٹر اسکیل پر 7.3شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی۔
زلزلے کے جھٹکے عراق میں بھی محسوس کئے گئے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰