
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی جانب سے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
دفترخارجہ نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ القدس شریف مسلمانوں کا پہلا قبلہ گاہ اور فلسطینی سرزمین سے الگ نہ ہونے والا حصہ ہے جس کو مسلمانوں اور پورے عالم اسلام کے درمیان اہم حیثیت حاصل ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ناجائز صہیونی ریاست نے بیت المقدس پر طویل قبضہ جمایا ہے اور یہاں سے مقامی افراد کو بھی نکال دیتے ہوئے ان کی جائیدات اور زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا۔
ایرانی دفترخارجہ نے مزید کہا کہ صہیونیوں نے دہائیوں سے نہتے فلسطینی عوام پر مظالم ڈھاتے رہے اور بیت المقدس میں نماز جمعہ پر مسلسل پابندی اور عوام کے حقوق کی پامالی جیسے ہتکنڈوں کا بھی استعمال کیا۔
بیان کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطینی عوام سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے امریکی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
دفترخارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، فلسطین ایک مقبوضہ سرزمین ہے لہذا امریکہ کی جانب سے اسے ناجائز صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام بین الاقوامی فورم بالخصوص اسلامی ریاستیں اور اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک پر زور دیتا ہے کہ خطے میں قیام امن و سلامتی کی خاطر امریکہ کے اس فیصلے کو کامیاب نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے صرف ناجائز صہیونی ریاست کو فائدہ ملے گا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/