25 January 2018 - 16:22
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 434771
فونت
محمد ثروت اعجاز قادری :
پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ امریکا یاد رکھے کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے عوام سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔
محمد ثروت اعجاز قادری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملہ ملکی خودمختاری پر حملہ تصور کرتے ہیں، کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہیں، خارجہ پالیسی کو آزاد و خود مختار بنایا جائے، امریکی دھونس دھمکیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر آواز بلند کرنا ہوگی، عالمی برادری امریکی منفی پالیسیوں کے خلاف اقدامات کریں ۔

ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈرون گرانے اور ڈرون حملے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، امریکا ڈرون حملوں سے باز رہے، دہشتگردی کے خاتمے اور دہشتگردوں کے مضبوظ ٹھکانے ختم کرنے میں پاک فوج کا مثالی کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملہ افغان مہاجرین کیمپ پر کیا گیا، بار بار پاکستان مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان مہاجرین کی پُرامن واپسی کو یقینی بنایا جائے، افغانستان سے دہشتگرد آکر افغان مہاجرین میں گھل مل جاتے ہیں، پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان سے آئے ہوئے دہشتگردوں کا ہاتھ ہے۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ امریکا، بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردوں کو فنڈز اور آکسیجن فراہم کر رہا ہے، بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے پاکستان میں دہشتگردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ملک کی سلامتی و خود مختاری پر حملہ کسی طور برداشت نہیں کرینگے، امریکا یاد رکھے کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے عوام سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کسی غلطی میں نہ رہے، اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اچھی طرح آتا ہے، عوام ملک کی سلامتی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں کا کہنا تھا کہ امریکا خطے کا تھانہ دار بننے کی بجائے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے انٹلی جینس شیئرنگ کا تبادلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی حدود میں ڈرون حملے کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری فوری نوٹس لے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬