‫‫کیٹیگری‬ :
28 February 2018 - 20:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435200
فونت
لبنان کے سنی عالم دین:
سرزمین لبنان کے سنی عالم دین نے کہا: آج شیعہ اور اہل سنت دونوں ہی حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری حجت الاسلا والمسلمین سید حسن نصرالله کو باعث فخر جانتے ہیں اس کے لئے اسلامی مزاحمت کے مقاصد شیعہ و سنی دونوں کے مشترکہ مقاصد ہیں ۔
شیخ جمال‌ الدین شبیب

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی شمال خراسان سے رپورٹ کے مطابق، سرزمین لبنان کے سنی عالم دین شیخ جمال‌ الدین شبیب نے طلاب اور شیعہ و سنی علماء کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امام خمینی (رہ) کے نظریات سامنے آنے کے بعد مسلمانوں میں اتحاد کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور دنیا کے مسلمان اتحاد اور یکجہتی کو بہتر طریقے سے سمجھنے لگے ہیں ۔

انہوں نے شیعہ واہل سنت علماء کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اگر حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ‌ای کی ملت اسلامیہ کے ساتھ حمایتیں نہ ہوتیں تو ہم ھرگز دوستوں کی پیروزی اور دشمنوں کی سازشوں کے ناکام ہونے کے شاھد نہ ہوتے ۔

شیخ شبیب نے واضح طور سے کہا: جیسا کہ ہم نے بارہا و بارہا اعلان کیا ہے کہ اگر یہ اتحاد اور یکجہتی ماضی سے زیادہ ہوگیا تو یقینا بہت جلد مسجد الاقصی میں شیعہ و سنی نماز جماعت قائم ہونے کے شاھد ہوں گے اور دونوں مذاھب ایک صف میں نماز وحدت ادا کریں گے کیوں کہ یہ رسول اسلام (ص) کی آرزو اور دیگر اماموں (ع) کی دلی تمنا ہے ۔

سرزمین لبنان کے سنی عالم دین نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلام کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم فقط مسجدوں میں آئیں اور نماز ادا کریں کہا: اسلام کا لوگوں کی حیات میں اترنا ضروری ہے ، عصر حاضر میں اسلام کا اہم ترین حصہ خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا ہے کہ جس سے اسلامی معاشرے کو بخوبی آگاہ کیا جائے ۔

انہوں نے مزید کہا: آج شیعہ اور اہل سنت دونوں ہی حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری حجت الاسلا و المسلمین سید حسن نصرالله  کو باعث فخر جانتے ہیں اس کے لئے اسلامی مزاحمت کے مقاصد شیعہ و سنی دونوں کے مشترکہ مقاصد ہیں اور اسرائیل مردہ باد ، امریکا مردہ باد کا نارہ اس مقصد کا خلاصہ ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۷۶

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬