‫‫کیٹیگری‬ :
03 May 2018 - 19:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435793
فونت
آیت الله مصباح یزدی :
امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ نے معرفت اور محبت کو ایمان کا عنصر جانا ہے اور کہا : محبت و نفرت میں شخصی و ذاتی ملاک نہیں ہونا چاہیئے کیوں کہ مومن کے دل میں شخصی مسائل کا کوئی مقام نہیں ہے ۔
آیت الله مصباح یزدی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے قائد انقلاب اسلامی کے قم آفس میں منعقدہ اپنے اخلاق کے درس میں امام زمانہ (عج) کی روز ولادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس بیان کے ساتھ کہ ایمان عین علم و شناخت نہیں ہے کہا : ممکن ہے کہ انسان ایک چیز کے سلسلہ مں علم رکھتا ہو لیکن اس پر ایمان نہ رکھتا ہو ۔

انہوں نے وضاحت کی : ایمان علم سے بھی زیادہ کچھ چیزوں کو چاہتا ہے البتہ علم اور معرفت ایمان کے لئے لازم شرط ہیں ؛ صحیح ہے کہ علم ایمان کے مساوی نہیں ہے لیکن ایمان بغیر علم کے ممکن نہیں ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں جامعہ مدرسین کے ممبر نے اس بیان کے ساتھ کہ علم کے علاوہ محبت ہونا چاہیئے تا کہ ایمان حاصل ہو بیان کیا : خداوند عالم اپنے بندوں کو کمال تک پہوچانے کے لئے بہت سارے راستہ ان لوگوں کے لئے مشخص کیا ہے ، ایمان کے لئے شناخت اور استدلال کے علاوہ محبت کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : ایمان یعنی یہ کہ انسان الہی خواہشوں کے سامنے تسلیم رہے اور اس کی رضایت کو اپنی خواہش پر ترجیح دے ، قرآن کریم فرماتا ہے مومنین خداوند عالم سے بہت و شدید محبت کرتیں ہیں ، محبت انسان کو ایمان لانے میں مدد کرتا ہے اور ایمان ہونا خالق کی اطاعت کا سبب بنتا ہے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے اس بیان کے ساتھ کہ بے نہایت کمالات کی وجہ سے الہی جاذبہ کسی بھی دوسری موجودات سے قابل مقایسہ نہیں ہے بیان کیا : اگر صرف یہ ثابت ہو جائے کہ واجب الوجود ہے تو یہ انسان کے مومن ہونے کا سبب نہیں ہوتا ہے بلکہ الہی محبت بھی اس میں موجود ہونا چاہیئے ۔

انہوں نے ایمان کے دوسرے عنصر کو ذکر کرتے ہوئے بیان کیا : انسان کو چاہیئے کہ حق کو پیچانے اور اس عقیدہ کے ذریعہ اس کو انجام دے ، مومن کی خاصیت یہ ہے کہ وہ خداوند عالم سے زیادہ محبت کرتا ہے ، ایمان کا دوسرا عنصر محبت کے بعد معرفت ہے ، حس حد تک ایمان کامل تر ہوتا چلا جائے گا محبت بھی انسان کی شدید ہوتی چلی جائے گی ۔/۹۸۹/ف۹۷۴/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬