‫‫کیٹیگری‬ :
13 May 2018 - 21:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435918
فونت
آیت الله خرازی :
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ممبر نے جوانوں کی مشکلات خاص کر ان کی شادی کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے حکام و عوام سے اپیل کی ہے کہ جوانوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے راہ حل نکالا جائے ۔
آیت الله خرازی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ممبر آیت الله سید محسن خرازی نے اپنے درس اخلاق میں موجودہ دور میں جوانوں کی مشکلات پر افسوس و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا : افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے جوانوں کی شادی کا وقت ختم ہو گیا لیکن وہ شادی نہیں کر سکے ، ان کی شادی نہ کرنے کی بعض وجوہات زیادہ توقع اور قناعت کا نہ ہونا ہے اور یہ چیزیں ایک ثقافت میں بدل گئی ہے ، یہ ثقافت بہت ساری مشکلات پیدا کرتی ہیں ؛ اسلامی احکامات کے مطابق کوشش اور ایمان کے ذریعہ زندگی کو کامیاب بنایا جائے ۔

انہوں نے وضاحت کی : غیروں کے آداب و رسومات کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے کیوں کہ یہ مسائل جوانوں کو سنگین مسئلہ سے روبرو کرتا ہے ، افسوس کی بات ہے کہ اس زمانہ میں جوانوں کی شادی میں غیر عقلی و سخت مسائل پیدا کی جاتی ہیں ، ہم جوانوں کے لئے فکر مند ہیں اور امید کرتا ہوں کہ اہل خانہ اور حکام مملکت اس مشکلات کو جلد سے جلد حل کریں ۔

حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے مشہور و معروف استاد نے اپنی تقریر کے دوسرے حصہ میں سورہ مبارکہ اعراف کی ایک آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : انسان کو ہوشیار رہنا چاہیئے کہ شیطانی حرکات کے سامنے خود کو کمزر نہ کرے بلکہ اس کا مقابلہ کرنا چاہیئے ۔

انہوں نے وضاحت کی : انسان ایسے حالات میں خداوند عالم سے پناہ حاصل کرے ، رجب ، شعبان اور رمضان کے مبارک مہینہ میں زیادہ استغفار کی تاکید ہوئی ہے اور یہ مہینہ گناہ کی قید سے رہائی کا بہترین موقع ہے ۔

آیت الله خرازی نے اس بیان کے ساتھ کہ انسان کو چاہیئے رمضان کے مبارک مہنیہ میں گناہوں سے رہائی پیدا کرے اور خداوند عالم کی طرف پلٹے بیان کیا : جو لوگ تقوا اختیار کرتے ہیں اگر شیطان ان کی طرف جاتا ہے تو وہ فورا خداوند عالم کو یاد کرتے ہیں اور غلط راستہ سے واپش ہو جاتے ہیں ، متقی شخص صاحب بصیرت ہونے کی وجہ سے صحیح راستہ کو اختیار کر سکتے ہیں ۔ /۹۸۹/ف۹۷۵/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬