‫‫کیٹیگری‬ :
26 May 2018 - 16:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436058
فونت
آیت الله جعفر سبحانی:
حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے حقوق خواتین کی حمایت میں فمینیسم کے اھداف و مقاصد کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ہم، خواتین اور لڑکیوں کے لئے حد درجہ حقوق کے قائل ہیں کیوں کہ حضرت خدیجہ (س) اور حضرت فاطمہ زھراء (س) ہمارے لئے بہترین آئڈیل ہیں ۔
حضرت آیت الله جعفر سبحانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے مدرسہ علمیہ حجتیہ قم ایران میں منعقد تفسیر قران کریم کی نشست میں جس میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ نے شرکت کی ، سورہ توبہ کی ۱۴ ویں آیت کی تفسیر میں کہا: مشرکین سے جنگ و قتال وہ الھی عذاب ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پاتا ہے ۔

انہوں نے بیان کیا: بعض مفسرین من جملہ اہل سنت مفسر فخر رازی کا کہنا ہے کہ یہ آیت جبر کی بیانگر ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم کسی کا قتل کریں تو گویا خدا نے اس کا قتل کیا ہے دوسرے الفاظ یوں کہا جائے کہ انہوں نے قتل کو عمل الھی اور انسان کو اس کا وسیلہ قرار دیا ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ قران کریم کی تفسیر میں ھرگز فقط مورد نظر آیت کو نہ دیکھا جائے بلکہ دیگر آیات قران پر بھی نگاہ رکھی جائے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ قران کریم میں دسیوں آیتیں موجود ہیں جو انسان کے مختار ہونے اور اس کے صاحب اختیار ہونے کو ثابت کرتی ہیں کہا: اس آیت میں خداوند متعال کا لہجہ حاکمانہ ہے کہ اس نے مشرکین سے قتال اور جنگ کا حکم دیا ہے ، لہذا مشرکین کا قتل، وسیلہ کے حوالہ سے مسلمانوں کی جانب اور حکم کے لحاظ سے خداوند متعال کی جانب منسوب ہونا چاہئے ، بلکل ایک بادشاہ کے مانند کہ جب اس کی فوج کوئی سرزمین فتح کرتی ہے تو فتح کو بادشاہ کی جانب منسوب کرتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا: جناب جبّانی معتزلی نے جبریوں پر اعتراض کیا ہے کہ اگر آپ کی باتیں صحیح ہیں تو اس حالت میں اگر کافر نے کسی مومن کا قتل کردیا تو گویا خدا نے مومن کا قتل کیا اور اگر کافر نے مومن کو گالیاں بکیں تو گویا خدا نے مومن کو گالیاں بکیں کہ یہ بات ھرگز صحیح نہیں ہے ۔

حوزه علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے یاد دہانی کی: آگے کی آیت میں خداوند متعال کا ارشاد ہے کہ خداوند متعال مومنین کے وسیلہ کفار کو ذلیل و رسوا کرتا ہے ، آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کے ذریعہ مومنین کے دلوں کو شفا عطا کرتا ہے اور دلوں میں موجود غم و غصہ کو مٹا دیتا ہے ۔

انہوں نے فعل «یتوبَ» کے منصوب ہونے یعنی اس پر زبر آنے کی دلیل کی جانب اشارہ کیا اور کہا: تمام افعال مضارع چونکہ قتل کا نتیجہ تھے لہذا مجزوم ہیں یعنی ان پر ساکن آیا ہے مگر توبہ مشرکین کے قتل کا نتیجہ نہیں ہے لہذا منصوب ہے ، البتہ «یتوبَ الله» کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خدا توبہ کرنے والا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ «یتوبَ الله علیه» یعنی خداوند متعال مومنین کی توبہ قبول کرنے والا ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے اپنے بیان کے دوسرے حصہ میں یاد دہانی کی: ہم سولہویں آیت تک پہونچتے ہیں کہ جو آخری آیت ہے ، گویا امیرالمومنین علی علیہ السلام سورہ توبہ کو اپنے ساتھ  مکہ لیکر گئے ہیں تاکہ اسے مسلمانوں کے لئے تلاوت کرسکیں اور یہ آیت در حقیقت منافقوں کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہے ۔

انہوں نے بیان کیا: خداوند متعال کا ارشاد ہے کہ ہم لوگوں کا امتحان لیتے ہیں تاکہ منافقین ، سچے مسلمانوں سے جدا ہوسکیں ، البتہ یہاں پر یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب خدا دلوں کی حالت سے آگاہ ہے تو پھر امتحان کیوں ؟ جواب یہ ہے کہ خدا آگاہ ہے مگر لوگوں کو ان کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور منافقین کے چہرے سے پردہ اٹھانے کے لئے امتحان لیتا ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے بیان کیا: آج اسلام کی عظیم المرتب خاتون حضرت خدیجۃ الکبری (س) کی وفات کا دن ہے ، دنیا میں کوئی بھی عورت آپ کے ہم پلہ نہیں ہوسکتی ہے ، مال و دولت سے مملو قریش کی یہ عظیم المرتبت خاتون نے خود پیغمبر اکرم اسلام (ص) سے شادی کی خواہش ظاھر کی ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حضرت خدیجہ (س) نے اپنی تمام دولت اسلام کی ترقی میں مرسل آعظم (ص) کو ھبہ کردی کہا: آپ نے شعب ابی طالب کی سہ سالہ پابندیوں کے دور میں مشکلات کو برداشت کیا ، آپ وہ پہلی خاتون ہیں جو رسول اسلام (ص) پر ایمان لائیں اسی بنیاد پر رسول اسلام (ص) نے بھی اپنی زندگی کے آخری لمحات تک آپ کو یاد کیا ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے بیان کیا: خداوند متعال نے قرآن کریم میں دو بے مثال خاتون کی جانب اشارہ کیا ہے ، ایک فرعون کی اہلیہ جانب آسیہ اور دوسرے حضرت مریم حضرت موسی (ع) کی مادر گرامی کہ جو وفادار اور خدا پرست خواتین تھیں ، آج فمینیسم کہ جو عورتوں کے حقوق کی حمایت کا دم بھرتے ہیں جان لیں کہ ہمارے پاس خود بہترین آئڈیل خواتین موجود ہیں ۔

انہوں ںے آخر میں واضح طور سے کہا: اگر تقوائے الھی اور عفت کی دنیا میں آئڈیل چاہئے تو فرعون کی بیوی حضرت آسیہ اور حضرت عیسی (ع) کی ماں حضرت مریم بہترین آئڈیل ہیں، دور حاضر اور امت مسلمہ کی خواتین اور لڑکیوں کے لئے بھی حضرت خدیجہ (س) و حضرت فاطمہ (س) بہترین آئڈیل ہیں ۔/۹۸۸/ ن۹۷۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬