‫‫کیٹیگری‬ :
16 June 2018 - 16:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436288
فونت
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی:
سرزمین ایران کے مشھور مقرر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مومن کا اہم ترین وظیفہ یہ ہے کہ وہ ماہ مبارک رمضان کے بعد اس ماہ کی برکتوں کا تحفظ کرے کہا: امت کے لئے ماہ مبارک رمضان کا بہترین تحفہ اپنے اعمال کا دقیق حساب و کتاب ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، سرزمین ایران کے مشھورعالم دین حجت ‌الاسلام‌ و المسلمین ناصر رفیعی نے حرم مطهر حضرت معصومہ قم (س) میں تقریر کرتے ہوئے کہا: اگر انسان ماہ مبارک رمضان میں بخشا نہ جائے تو پھر کسی اور ماہ میں اس کی بخشش کا کم امکان بہت ہے مگر یہ کہ وہ میدان عرفہ میں پروردگار سے بخشش کا مطالبہ کرے ۔

انہوں نے عید فطر کو ایک ماہ کی روزہ داری اور خداوند متعال کی عبادت کا صلہ جانا اور کہا: ہر انسان اپنے اعمال کا نتیجہ خود دیکھے گا اور یقینا اس کی جزا دریافت بھی کرے گا کیوں کہ خداوند متعال اپنے بندوں کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال سے با خبر ہے اور امیرالمؤمنین علی (ع) سے منقول روایت کے مطابق عید فطر ایک ماہ کی روزہ داری کا انعام ہے  ۔

حجت ‌الاسلام ‌والمسلمین رفیعی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ جس نے ماہ رمضان کی قدر نہیں اس نے بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے اور خسارہ کے ساتھ اس ماہ سے نکلا ہے کہا: جس نے اس ماہ سے بخوبی استفادہ کیا اسے جزاء نصیب ہوگی ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ رمضان اور قیامت میں مشابہت پائی جائی ہے کہا: ائمه معصومین (ع) سے منقول روایت کے مطابق عید فطر کے دن نماز عید فطر کے لئے نکلنے والے مومنین ، قبروں سے نکلنے اور بارگاہ الھی میں حضور پانے کی طرح ہیں ، نماز عید میں کھڑا ہونا قیامت میں خدا کے روبرو کھڑا ہونا ہے اور نماز پڑھ کر گھر کی واپسی ویسے ہے جیسے انسانوں سے کہا جائے کہ تم اپنی جنت یا جہنم کی جانب لوٹ جاو ۔

سرزمین ایران کے مشھور مقرر نے مزید کہا: عید فطر کی چھٹیوں میں سفر کرنے والے اپنی عید کو ناچ گانے سننے اور لہو و لعب میں صرف نہ کریں نیز ایک ماہ روزہ داری کی جزاء کو گناہوں کے ذریعہ تباہ  و برباد نہ کریں ۔

انہوں نے قرائت قرآن، انفاق، اتحاد و همدلی اس ماہ کی برکتوں میں سے جانا اور کہا: ماه مبارک رمضان کی برکتیں اس ماہ کے بعد انسانوں کے اندر باقی رہنی چاہیں ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے قیامت کا ایک نام " یوم ‌الحساب" بتایا اور کہا: انسان شب و روز اپنے دنیاوی اور اخروی اعمال کا محاسبہ کرے اور امام جعفر صادق (ع) نے اعمال کے محاسبہ کا بہترین وقت سونے سے پہلے بتایا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: اپنے عیوب اور گناہوں کو تلاش کرنا اس دنیا میں انسان کی اپنے اعمال کی حسابرسی کا نتیجہ ہے کہ جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔

سرزمین ایران کے مشھور مقرر نے بیان کیا: آیات قرآن کریم کی مطابق قیامت کا ایک سوال یہ ہے کہ کیوں کہ اپنے اعمال کی حسابرسی نہیں کی ، لہذا انسان کا وظیفہ ہے کہ وہ ہر دن کچھ دیر اپنے اعمال کا محاسبہ کرے تاکہ آخرت میں مشکلات سے روبرو نہ ہو ۔

انہوں نے اجرو جزاء کو عبادت و اطاعت کی قبولیت سے الگ جانا اور کہا: امام علی (ع) فرماتے ہیں کہ عمل کی قبولیت اس کی انجام دہی سے بالاتر ہے کیوں کہ انسان جن اعمال کو انجام دیتا ہے اس کے تین مرحلے ہیں ایک عمل کا صحیح ہونا دوسرے عمل قبول کا ہونا اور تیسرے عمل کا منزل کمال تک پہونچنا ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے یاد دہانی کی : خدا اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت پر ایمان ، حلال لقمہ ، اخلاقیات ، سماجی طور طریقے اور تقوائے الھی اعمال کی قبولیت کی پانچ شرطیں ہیں کہ جس پر توجہ ضروری ہے ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۱

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬