‫‫کیٹیگری‬ :
18 June 2018 - 21:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436310
فونت
آیت الله محمد ناصری:
سرزمین ایران میں عرفان اور اخلاق کے استاد نے کہا: انسان ہمیشہ حلال رزق و روزی کی تلاش میں رہے ، بعض افراد رشوت کو تحفے کا نام دے کر حرام لقمہ کمانے اور کھانے میں مصروف ہیں ، پروردگار بہتر جانتا ہے کہ قیامت کے دن ان کا انجام کیا ہوگا ۔
آیت الله محمد ناصری

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی اصفھان سے رپورٹ کے مطابق، سرزمین ایران کے مشھور عالم دین اور عرفان و اخلاق کے استاد آیت الله محمد ناصری نے مسجد کمر زرین اصفهان میں تقریر کرتے ہوئے کہا: دنیا میں جو کچھ بھی موجود ہے اس کا ایک نمونہ خود انسان کے اندر موجود ہے کیوں کہ یہ انسان ہے جو ہمیشہ خدا کے نزدیک محبوب اور اس کا پسندیدہ ہے ۔

آیت الله ناصری نے مزید کہا: پروردگار نے انسان کے اندر بہت ساری نعمتیں قرار دیں ہیں اور اس نے ہمیں صحیح و سالم زندگی بسر کرنے کے لئے بہت سارے قوانین بیان کئے ہیں ، ملازمت اور کام کاج ہم سب کی ذمہ داری ہے کیوں کہ پروردگار بے کار انسان سے بے زار اور متنفر ہے ، حضرت امام علی(ع) ان لوگوں سے جن لوگوں نے عبادت اور عرفان کی وجہ سے ملازمت اور کام کاج سے سے دوری اپنائی مخالف رہے اور حضرت(ع) نے اس سے منع کیا ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ہر انسان کا رزق معین ہے کہ جو اسے کام کاج اور حلال طریقے سے کوشش کرنے پر ملے گا کہا: انسان ہمیشہ حلال رزق و روزی کی تلاش میں رہے ، بعض افراد رشوت کو تحفہ کا نام دے کر حرام لقمہ کمانے اور کھانے میں مصروف ہیں ، پروردگار بہتر جانتا ہے کہ قیامت کے دن ان کا انجام کیا ہوگا ۔

عرفان و اخلاق کے اس استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے گھرانے اور اہل و عیال کے لئے حلال روزی کمانا ہر انسان کا وظیفہ ہے کہا: حرام لقمہ کمانا ، اس حلال روزی کے حق میں خیانت ہے جو اس کے لئے معین ہے ، حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں دو طبقہ ہرگز سیر نہیں ہوتا ایک طالب علم اور دوسرے طالب دنیا کہ جس کی ممانعت کی گئی ہے ۔

آیت الله ناصری نے معینہ روزی سے زیادہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا انسانوں کا غلط کام جانا اور کہا: جس لوگوں پر خداوند متعال نے کرم فرمایا ہے اور انہیں مال و دولت عطا کی ہے گھرانے ، اہل و عیال اور اولاد کے حق میں مہربان رہنا ان کا وظیفہ ہے ، انہیں چین و سکون فراہم کریں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کریں ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۵

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬