‫‫کیٹیگری‬ :
23 July 2018 - 14:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436672
فونت
دوسری قسط:
شادی میں "کفویت" کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے ، میاں بیوی کی علمی کفویت بھی اس قاعدے اور قانون سے الگ نہیں ہے ، لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی ہمسری کے انتخاب میں عام شرائط کے بعد تخصصی معیاروں پر بھی توجہ کریں ۔
شادی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شادی ہر دور اور زمانہ کا سب سے اہم سماجی مسئلہ ہے رہا ہے ، شادی کے سلسلہ میں ہمیشہ کچھ باتیں سامنے رہی ہیں اور ہیں نیز بعض پر دین اسلام نے بھی تاکید کی ہے کہ عصر حاضر کہ مشاوریں اور ماھرین نفسیات نئے جڑوں کو اس بات کی جانب اشارہ کرتے رہتے ہیں ۔

دولہا اور دلہن کا علمی میدان میں بھی ایک دوسرے کا "کفو" ہونا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بہت کم گفتگو کی گئی ہے ، اگرچہ بہت سارے گھرانے اور خانوادے اسے اہم نہیں سمجھے اور ان کی نگاہ میں علمی کفویت کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہے مگر جب دولہا اور دلہن اپنی مشترکہ زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ناخواستہ طور پر بہت ساری جگہوں پر علمی کفویت اور امتیاز کا مسئلہ درپیش آجاتا ہے کہ جو بہت ساری مشکلات کی بنیاد جاتا ہے ۔

علم کے میدان میں لڑکے اور لڑکی کے لئے چار شکلیں تصور کی جاسکتی ہیں ، ایک یہ کہ دولہا اور دلہن علمی حوالہ سے ایک دوسرے کے برابر ہوں کہ یہاں پر کفویت کے ہونے میں کسی قسم کا شک و شبھہ موجود نہیں ہے ۔

دوسرے یہ کہ لڑکا اعلی تعلیم کا مالک مگرلڑکی متوسط یا ابتدائی تعلیم کی حامل ہو، یہ بھی ان مقامات میں سے ہے جہاں مشکلات کے پیدا ہونے کا بہت کم امکان پایا جاتا ہے ۔

تیسرے یہ کہ لڑکا اعلی تعلیم یافتہ مگر لڑکی معمولی اور کمترین تعلیم یافتہ ہو کہ دور حاضر میں اس طرح کی مثالوں کا ملنا بہت کم ہے اس مقام پر میاں بیوی کے درمیان اختلاف کی آگ شعلہ ور ہونے کا امکان موجود ہے ۔

چوتھی اور آخری قسم یہ ہے کہ لڑکا لڑکی سے کم تعلیم یافتہ ہو ، یعنی لڑکے کی علمی سطح نیچی اور لڑکی اعلی تعلیم کی مالک ہو ، یہ وہ مقام ہے جہاں اختلافات کی آگ بھڑکنے کا پورا امکان پایا جاتا ہے کیوں کہ لڑکا گھر کا ذمہ دار اور مدیر ہونے کے ناطے زندگی کے تمام مراحل میں گھر چلانے والی یعنی لڑکی سے بالاتر ہونا چاہئے ، مرد عورت کی تکیہ گاہ ہے مگر جب لڑکا لڑکی سے کم علم ہو اور علمی میدان میں لڑکی سے کم منزلت ہو کہ جو سماج میں بھی کم رتبہ اور کم درآمد ہونے کا سبب ہے ، تو عورت ایسے مرد کو اپنی تکیہ گاہ ماننے سے انکار کردے گی کہ جو بعض اختلافات کا باعث بنے گا ۔ /۹۸۸/ ن ۹۷۵

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬