
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اور شام کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک مغربی دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے عوام کے مفادات اور خطے میں امن و سلامتی کے لئے باہمی تعاون کو جاری رکھیں گے۔
یہ فیصلہ محمد جواد ظریف کے دورہ دمشق کے موقع پر شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا گیا۔
اس نشست میں شامی وزیر خارجہ ولید المعلم، ایرانی وزیر خارجہ کے معاون خصوصی حسین جابری انصاری اور شام میں تعینات ایران کے سفیر جواد ترک آبادی بھی شریک تھے۔
فریقین نے اس موقع پر کہا کہ ایران اور شام بعض مغربی ممالک کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے غیرمنصفانہ اقدامات سے ہمیں اپنے عوام کے مفادات کا دفاع اور خطے میں قیام امن و استحکام سے پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور شام کے خلاف دباؤ اور دھمکی آمیز پالیسی کا استعمال ان مخصوص ممالک کی خطے میں سازشوں کی شکست کی علامت ہے جس کے خلاف ایران اور شام کی مزاحمت جاری رہے گی۔
ظریف اور بشار الاسد نے ایران شام تعلقات، خطی کی تازہ ترین صورتحال اور شام سے متعلق تہران میں ہونے والے آئندہ سہ فریقی اجلاس کے ایجنڈے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے ایک روزہ دورہ شام کے موقع پر اپنے ہم منصب ولید المعلم اور وزیراعظم عماد خمیس کے ساتھ بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/