01 May 2020 - 21:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442620
فونت
خدا وند عالم نے اس دنیا میں بہت سی چیزوں کو پیدا کیا ہے ،اگر انسان ان کے بارے میں غوروفکر کرے تووہ خداکی خالقیت اور اس کی صناعیت کے بارے میں حیرت وتعجب میں پڑجائے کہ اس نےکیسی کیسی مخلوقات خلق کی ہیں۔

تحریر: حجت الاسلام و المسلمین سید ظفر عباس رضوی (قم المقدسہ ایران)

خدا وند عالم نے اس دنیا میں بہت سی چیزوں کو پیدا کیا ہے ،اگر انسان ان کے بارے میں غوروفکر کرے تووہ خداکی خالقیت اور اس کی صناعیت کے بارے میں حیرت وتعجب میں پڑجائے کہ اس نےکیسی کیسی مخلوقات خلق کی ہیں۔ جب انسان ان مخلوقات کی عجیب و غریب خلقت کو دیکھتا ہے توبے ساختہ اس کی زبان سے سبحان اللہ نکلتا ہے،انہی مخلوقات میں سے ایک ایسی بھی مخلوق ہے کہ جسے خلق کرنے کے بعد خوداللہ نے اپنے بارے میں کہا "کس قدر بابرکت ہے وہ خداجوسب سے بہترخلق کرنے والا ہے[1] "

 جس مخلوق کوخلق کرنے کے بعد اللہ نے یہ جملہ کہا وہ مخلوق خود انسان ہے،  اور یہ بھی غور کرنے کی بات ہےکہ اللہ نےکسی اور مخلوق کو پیدا کرنے کےبعد یہ  جملہ  نہیں کہا بلکہ یہ انسان جیسی ہستی ہے کہ جس کو اللہ نے دوسری مخلوقات سے افضل وبرتر قرار دیا ہے اور جس کے لئے خود حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا کہ

"اے میرے بندے  ہم نے ساری چیزوں کو تمہارے لئے پیدا کیا ہے اور تمہیں اپنے لئے پیدا کیا ہے[2] "

 اللہ نے انسان کو جوہر ذاتی ، شعوروادراک کا بانکپن اور وجدان و آگہی کا نطق عطاکیا ہے، یہی وہ ساری چیزیں ہیں کہ جن کی وجہ سے اللہ نے ایک طرف انسان کو دوسری مخلوقات پر فضیلت وبرتری عنایت کی ہے اور دوسری طرف اس انسان کے سر پہ تاج شرافت وکرامت رکھا ہے،  اوراسی اشرف المخلوقات کے متعلق سورہ احزاب میں ارشاد فرما رہا ہے کہ

 "ہم نے امانت کو آسمان، زمین اور پہاڑسب کے سامنے پیش کیا تو سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور ڈر گئے ، بس انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا[3]

ساری مخلوقات  میں اگر کوئی اللہ کی امانت کا امین ہے تو وہ انسان ہی ہے یہ  کوئی معمولی بات نہیں ہے ،

 اسی انسان کے بارے میں امیر بیان حضرت علی علیہ السلام فرما تے ہیں 

  "اے انسان کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جثہ اور جسم ہے جبکہ تیرے اندر ایک بہت بڑی دنیا پوشیدہ ہے۔[4]"

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس انسان کی اتنی زیادہ فضیلتیں ہیں وہ کیا کرے کہ محبوب الہی ہو جائے؟ کون سا ایسا فعل انجام دے کہ مقرب بارگاہ الہی ہوجائے ؟  تو اس کا سب سے آسان ساطریقہ یہ ہے کہ انسان عبد بن جائے یعنی ہر حال میں خداکا مطیع وفرمانبردار اور اس کے سامنے ہمیشہ سر تسلیم خم کئے رہے، اس لئے کہ خداوندعالم کو جو چیزسب سے زیادہ پسند ہے وہ عبودیت اور بندگی ہے،

عبودیت اور بندگی کی اہمیت کو اگر سمجھنا ہے تو ہمیں کہیں اور نہیں بلکہ قرآن کی طرف رجوع کرناپڑےگا کہ خداوند عالم نے قرآن میں اپنے حقیقی بندوں کو کس طرح سے یاد کیا ہے،

 خداوند عالم نے اپنے کچھ خاص بندوں کا ذکر کیا ہے،  پیغمبر اکرم کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ

"میرے حبیب ہمارے بندے ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کا ذکر کیجئے جو صاحبان قوت وبصیرت تھے، ہم نے ان کو آخرت کی یاد کی صفت سے ممتازقراردیا تھا اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک بندوں میں سے تھے ، اور اسماعیل والیسع اورذوالکفل  کوبھی یاد کیجئے کہ یہ سب کے سب نیک بندے تھے ۔[5]"

 ان ساری آیتوں میں اللہ نے عبد کی لفظ استعمال کیاہے یعنی ہمارے بندے،  اوریہ بندگی وعبودیت کتنی اہمیت کی حامل  ہےکہ سورہ نمل میں جناب سلیمان خداوند عالم سے التجا کررہے ہیں کہ  

"پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطاکی ہے اور ایک ایسا نیک عمل کروں کہ توراضی ہو جائے اور اپنی رحمت کے ذریعے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے۔[6]"

خدا نے قرآن میں اپنے بندوں کی خصوصیتیں بھی بیان کی ہیں ، سورہ فرقان میں ارشاد فرمارہا ہے

"اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اورجب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں توسلامتی کاپیغام دیتے ہیں۔[7]"

سورہ نمل میں ارشادفرما رہا ہے "ساری تعریف اللہ کے لئے ہے اورسلام ہے اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے منتخب کر لیا ہے[8]"

 سورہ اسرا ء میں پیغمبر اکرم ﷺسے فرمارہاہے کہ "میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ صرف اچھی باتیں کیا کریں۔[9]"

اور دوسری جگہوں پہ اپنے بندوں سے تقاضاکیا ہے کہ وہ جوبھی کام اور فعل انجام دیں وہ احسن یعنی سب سے اچھا ہونا چاہیے، ہر جگہ عبد کا لفظ استعمال کیا ہے۔

 اگر ہم غور کریں تو وہ ہستی  جو بندگی اور عبودیت کی مصداقِ کامل اور اتم ہے وہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات گرامی ہے، جو اللہ کے نبی بھی ہیں اور رسول بھی  لیکن رسالت اور نبوت سے زیادہ خداکو پیغمبر اکرم ﷺ کی بندگی پسند ہے، جب قرآن مجیدکے نزول کو سورہ کہف میں بیان فرمانا چاہا تو ارشاد فرماتا ہے  "ساری تعریف اس خداکے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی[10]"

 اور جب ہم نمازمیں تشہد پڑھتے ہیں تو اس میں پہلے پیغمبر اکرم ﷺ کی عبودیت اور بندگی کی گواہی دیتےہیں اور بعد میں رسالت کی گواہی دیتے ہیں،  یعنی اللہ کے نزدیک بندگی زیادہ محبوب ہے اور جب یہی بندگی منزل کمال کو پہنچ جاتی ہے تو خدا ارشادفرماتا ہے کہ  "پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے گئی ، جس کے اطراف کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھلائیں[11]"

 اس آیت کی روشنی میں یہ بات آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ شب معراج  میں نبوت و رسالت کی نہیں بلکہ عبودیت وبندگی کی معراج ہو رہی تھی کہ بندگی قاب و قوسین کی منزلوں کو طے کرکے اپنے معبود تک پہنچ گئی ،

 انسان کو چاہئیے کہ وہ حقیقی عبد اور بندہ بن جائے تاکہ اپنے معبودسے قریب ہو جائے اور ایسی بندگی انجام دے کہ خدا خود کہے  "اے نفس مطمئن اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تو اس سے راضی ہے  اوروہ تجھ سے راضی ہے پھر میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔[12]"

جب بندگی کی اتنی اہمیت ہے تو عبودیت اور بندگی کو معراج پہ  پہنچانے  کا بہترین موقع اور فرصت ماہ  مبارک رمضان ہے جس میں صرف رحمتوں اور برکتوں کا  نزول ہے، جس مہینہ میں خدا نے اپنے لطف و کرم  اور توبہ و استغفار کا دروازہ کھول دیا ہے، جس مہینہ میں ہر عمل کا ثواب بہت ہی  زیادہ ہے،  جس  مہینہ  میں  سانسیں  تسبیح  کا ثواب  رکھتی ہیں،  اب اس  بھی زیادہ خدا کا اور بھی کیا لطف و کرم ہوسکتا ہے کہ ہر سانس تسبیح  کا  ثواب رکھتی ہے ، اس کا مطلب ہے  کہ اس مہینہ میں خدا اپنے بندوں کوبخشنے کا اور ثواب دینے کا بہانہ تلاش کرتاہے، تو جب خدا ہمارے اوپر اتنا مہربان ہے تو ہمیں بھی اس موقع سے خوب فائدہ  اٹھانا چاہیئے اور اپنے آپ کو منزل کمال تک پہنچا دینا چاہیئے تاکہ ہم   حقیقی طور پہ خدا کے بندے ہوجائیں اور خدا  سب سے زیادہ بندگی پسند کرتا ہے ،بندگی سے بڑھ کے اس کے نزدیک کوئی بھی چیز نہیں ہے،

آخر میں خدا وند عالم سے دعاہے کہ خدا محمدﷺوآل محمد علیہم السلام  کے صدقہ میں ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اس مبارک مہینہ میں  زیادہ سے زیادہ نیک عمل انجام دے سکیں  اور زیادہ سے زیادہ فائدہ ا ٹھاسکیں  تاکہ ہمارے اندر بھی حقیقی اورواقعی بندگی پیدا ہوجائے۔

...........................

[1] ۔ سورہ مومنون ، ۱۴۔

[2] ۔ الجواہرالسنیہ فی الاحادیث القدسیہ ۔ ص،۷۱۰، ناشر۔ انتشارات دہقان، تہران

[3] ۔ احزاب، ۷۲ ۔

[4] ۔ دیوان امیرالمومنین، ص، ۱۷۵، ناشر۔ دارنداء الاسلام للنشر، قم

[5] ۔ سورہ ص، ۴۵۔۴۶۔۴۷۔۴۸

[6] ۔ نمل،۱۹

[7] ۔ فرقان، ۶۳۔

[8] ۔ نمل ۔ ۵۹

[9]۔ اسراء۔ ۵۳

[10] ۔ کہف ۔ ۱

[11] ۔ اسراء۔ ۱

[12] ۔ فجر۔ ۲۷۔۲۸۔۲۹۔۳۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬