17 July 2016 - 04:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422508
فونت
حجت الاسلام ساجد نقوی:
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : عارضی یا ایکسٹرا ایکٹ و پالیسیاں مسئلے کا حل نہیں، قوانین کے راستے سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں ۔
حجت الاسلام ساجد نقوی:


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے ملک کی مجموعی سیاسی و امن وامان کی صورتحال پر تبصرہ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کی مدت ختم ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ملک میں قوانین موجود ہیں لیکن کہیں عملدرآمد کا فقدان ہے تو کہیں اس کے عملدرآمد میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کی : تحفظ پاکستان جیسے قوانین کی بجائے اگر پہلے سے موجود قوانین پر من و عن عملدرآمد کیاجائے ، ان کے نفاذ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے، آئین و قانون کی صحیح معنوں میں عملداری قائم کی جائے تو پھر کبھی عارضی قوانین کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے بیان کیا : سٹرٹیجک گہرائی پالیسی کی طرح اب قومی مفا د کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی اختتام کیا جائے ۔

انہوں نے بیان کیا : نیشنل ایکشن پلان کی حمایت ملک سے دہشت گردی ، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کی لعنت کا چھٹکارا پانے کیلئے کی لیکن افسوس اس پر عملدرآمد اس کی روح کے مطابق کیا ہی نہیں کیا گیا۔ اس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ پہلے سے موجود قوانین پر اگر عملدرآمد کرایا جائے تو پھر کسی صورت کسی نئے قانون کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی لیکن ہم نے ملک کے تحفظ ، امن و استحکام کی خاطر اس کی حمایت کی ۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے تاکید کی: موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو مناسب ہوگا کہ ذمہ دار حضرات اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے درستگی حالات پر توجہ دیں اور اس کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ، انہیں چاہئیے کہ عارضی قوانین بنانے یا انہیں توسیع دینے کے بجائے حالات کو معمول پر لایا جائے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو سنجیدگی سے یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا : پہلے سے موجود قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کرایا جائے ، ان قوانین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور ہر رکاوٹ کوقانون کی عملداری کیلئے راستے سے ہٹایا جائے۔ کچھ عرصہ قبل منتخب پارلیمان میں سٹرٹیجک (ڈیپتھ) گہرائی پالیسی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ ماضی میں غلط پالیسی اپنائی گئی ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے وضاحت کی : اسی طرح ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی مفاد کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی خاتمہ کیا جائے جس کے تحت نہ صرف ملک کے ہر شعبے وطبقے جن میں آئین و قانون، سسٹم، سیاست، معیشت، معاشرت ، ایڈمنسٹریشن اور کلچر کو ٹارگٹ کرکے تباہ کردیا گیا وہیں ملت تشیع کو بھی بے پناہ نقصان پہنچایاگیا ، اسی پالیسی کے تحت محب وطن قوتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ، امن و امان کے نام پر شہری آزادیاں تک سلب کرلی گئیں ، اب اس سلسلے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی تاکید کرتے ہوئے کہا : اب ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ تمام طبقات کے تحفظات بھی دور ہوں ، ان کے مفادات کا پاس بھی رکھا جائے اور ملک کو سیکورٹی اسٹیٹ کے بجائے فلاحی اسلامی جمہوری ریاست کی جانب لوٹایا جائے جس کے حصول کیلئے طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیاں دی گئیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬