18 July 2016 - 10:06
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422514
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان:
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : ایک بار پھر ہم ایسے مرحلے میں پہنچے ہیں جہاں ہمیں بحرانوں کا سامنا ہے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے ڈیرہ غازی خان میں سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا : پاکستان کے تشیع میں دو گروہ و دو فرقے بن جائیں میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا یہ فرقہ بندی میری زندگی میں نہیں ہوگی۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : میں کوشش کروں گا سمجاوٗں گا بجھاوٗں گا میرے پاس اور طریقے بھی ہیں میرے پاس ولایت فقیہ کی جانب سے بھی اختیارات ہیں ان کو بھی میں استعمال کرسکتا ہوں مجھے قومی اختیار بھی حاصل ہے کہ میں قومی مفادات و نظریات و عقائد کی حفاظت کروں اور میں کروں گا ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا نے تاکید کرتے ہوئے کہا : ایک بار پھر ہم ایسے مرحلے میں پہنچے ہیں جہاں ہمیں بحرانوں کا سامنا ہے مگر جس طرح پہلے ہم بفضلِ خدا بحرانوں سے نکلے اور ہم نے تشیع کی عظمت و کامیابی کا منظر دیکھا اسی طرح اس بار بھی ہم ان بحرانوں سے مشکلات سے سرخرو نکلیں گے اور تشیع ایک بار پھر توانا دکھائی دی گی ۔

انہوں نے بیان کیا : کچھ داخلی بحران ہیں کچھ خارجی بحران ہیں بہت آسانی سے ہم نے ان بحرانوں کا مقابلہ کیا قوم کو کسی مشکل مین ڈالے بغیر ہم نے کامیابی کی منازل طے کی ہیں تشیع کا ایک رعب ہے ایک دبدبہ ہے دشمن کا کوئی مکر کامیاب نہیں ہوا اور تشیع کامیابی کی معراج پر موجود ہے ۔

سید ساجد علی نقوی نے کہا : زینب علیا کا وہ خطبہ یاد آتا ہے چالیں چل لو اپنا پورا زور لگا لو تم نہ تو ہماری وحی مٹا سکتے ہو نہ ہی ہمارے ذکر کو ختم کرسکتے ہو ان کے کردار سے الہام لیتے ہوئے ہم نے اپنا رخ متعین کیا ہے اور جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ قوم کے مفاد میں ہوگا جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ ہی قوم کی کامیابی کے لئے ہوگا تشیع کے معیار کو خراب کیا جارہا ہے تشیع کے عقائد پر حملہ کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا : تشیع کا معیار ہے کہ امامت کی طرف رجوع کرے امامت کی جانب جو راستہ دکھایا گیا اس کی جانب رجوع کرے اگر امامت نہیں تو امامت نے جو راستہ دیا اس کی طرف رجوع کرو جو کچھ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا وہ بداخلاقی کا بدترین مظاہرہ ہے ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : تشیع ایک ملت ہے ایک نظام ہے دنیا مانتی ہے اس بات کو کہ اسلامی تہذیب اک منبع و سرچشمہ آل محمدؑ کا گھرانہ ہے یہ جو اختلافات ہیں انجمنوں میں محلوں میں خاندانوں میں یہ اخلاقایات کی کمی کی وجہ سے ہے ہم نے نسل کی تربیت کا اہتمام نہیں کیا سب سے مضبوط سسٹم تشیع کے پاس موجود ہے مگر پاکستان میں سب سے کمزور حیثیت اگر ہے تو وہ تشیع کی ہے ۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی تاکید کی : کوئٹہ کے راستے زیارات پر جانے کا راستہ نہیں چھوڑسکتے حکومت سن لےقوم کو ایسا راستہ دکھانا چاہئے جس سے قوم کے کردار میں بھی مضبوطی آئے تشیع کی عظمت و سربلندی بھی موجود ہو اور قوم آمادہ وتیار اور ہوشیار بھی رہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬