10 September 2016 - 23:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423156
فونت
پیر سید محمد معصوم حسین نقوی:
جمعیت علماء پاکستان نیازی کے سربراہ نے کہا : سعودی عرب کے مفتی اعظم کا ایران کے خلاف بیان ایک شرانگیز، شرمناک قدم ہے جو امت مسلمہ کی وحدت کو توڑنے کی سازش کے لئے کیا جا رہا ہے ۔
پیر سید محمد معصوم حسین نقوی

 

 

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کے بزرگ مذہبی رہنما جمعیت علماء پاکستان نیازی کے سربراہ قائد اہل سنت پیر سید محمد معصوم حسین نقوی نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو عاشقان مصطفی (ص) اور محبان اہل بیت (ع) کا ملک قرار دیتے ہوئے کہا : سعودی مفتی کا ایران مخالف بیان شرمناک اور مسلم امہ کی وحدت کو توڑنے کی سازش ہے۔

انہوں نے اپنی گفت و گو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا : سعودی عرب کے مفتی اعظم کا ایران کے خلاف بیان ایک شرانگیز، شرمناک قدم ہے جو امت مسلمہ کی وحدت کو توڑنے کی سازش کے لئے کیا جا رہا ہے ۔

پاکستانی کے بزرگ مذہبی رہنما نے تاکید کرتے ہوئے کہا : عالمی سیاست کو فرقہ وارانہ اختلافات اور تکفیریت کے نظریات کی شکل میں نہیں لانا چاہیے، کفر اور شرک کے نعرے عرب، عجم اور فارس کی بنیاد پر لگنے شروع ہوگئے تو کوئی مسلمان نہیں بچے گا۔

جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ نے بیان کیا :  شام، بحرین، یمن اور دیگر عالمی مسائل کے سلسلہ میں سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ مخالف ملک کے بارے میں گهٹیا زبان استعمال کی جائے اور اس کے ذریعہ اپنے عیب پر پردہ پوشی کی جائے۔

انہوں نے تاکید کی : ایران عاشقان مصطفی اور محبان اہل بیت کا ملک ہے، جس نے امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور برطانیہ سمیت تمام عالمی سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کیا اور یہ واجد ملک ہے جس نے اتحاد امت کے حوالے سے عملی طور پر کام انجام دیا اور یہیں ملک ہے جس نے آج تک کسی بھی ملک کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا ۔

سید محمد معصوم حسین نقوی نے بیان کیا : حج کے انتظامات کے حوالے سے ایران کی تنقید بالکل درست ہے، کیونکہ سعودی حکومت حج کے انتظامات سنبهالنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے اور گذشہ سال حرم مقدس میں کرین گرنے اور بهگڈر مچنے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں حجاج کی شہادت ثبوت ہے کہ آل سعود حج کے انتظاما ت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال حج کے موقع پر منا میں رمی جمرات کے لئے حاجی کو ایک ایسے راستہ کی طرف بھیجا جاتا تھا کہ اس راستہ سے نکل کا دروازہ پلیس کے ذریعہ بند کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس راستہ میں حد سے زیادہ حاجیوں کا ایک جگہ کئی گھنٹوں تک کھڑا کر دیا گیا تا کہ وہ گرمی کی شدت اور پیاس سے وہاں گر کر موت کی آغوش میں سو جائیں ۔ /۹۸۸/الف۹۳۰/ک ۴۹۵/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬