17 September 2016 - 21:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423286
فونت
ایک ۱۵ سالہ علی احمد راشد نے ۱۶۵ افراد پر مشتمل ایک قافلہ کو داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے بغیر کسی نقصان کے باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی ۔
احمد علی راشد

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق۳۰ خاندانوں کے ۱۶۵ افراد پر مشتمل ایک قافلہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے باہر نکلنے کی کوشش میں مختلف راستہ طے کرتا ہوا تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا جس کی کی قیادت ایک ایسا ادھیڑ عمر شخص کر رہا تھا کہ جسے ایسے راستوں کے بارے میں معلوم تھا کہ جو داعش کی چوکیوں اور داعشی دہشت گردوں کی نظروں سے دور ہیں ۔

قیادت کرنے والا یہ شخص ایک جگہ اچانک رک جاتا ہے اور قافلے والوں کو بتاتا ہے کہ اب ہمارے سامنے ایک ایسا راستہ ہے کہ جہاں داعش دہشت گردوں نے بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں جس سے عبور کرنے پر ہی جان بچ سکتی ہے ۔

قافلہ سالار کی یہ بات سن کر تمام قافلے والے خوفزدہ ہو جاتے ہیں کیونکہ اگر وہ واپس پلٹتے ہیں تو داعش کے درندے انہیں بے دردی سے قتل کر دیں گے اور اگر آگے بڑھتے ہیں تو ۲ کلو میٹر میں پھیلی ہوئی بارودی سرنگوں کا کسی بھی وقت نشانہ بن سکتے ہیں۔

قافلے کی قیادت کرنے والے شخص نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں تمہارے سامنے کچھ فاصلے پہ چلتا رہتا ہوں اور تم لوگ لائن کی صورت میں میرے پیچھے چلتے رہنا اور اگر میں کسی بارودی سرنگ کا شکار ہو جاتا ہوں تو کوئی دوسرا فرد اس قافلے کی قیادت سنبھال کر اسی طریقے سے اسے آگے بڑھاتا رہے۔

یہ بات سنتے ہی اس کے ۱۵ سالہ بیٹے نے آگے بڑھ کر اپنے والد سے کہا کہ میں اس قافلے کی قیادت کروں گا کیونکہ اگر آپ شہید ہو جاتے ہیں تو باقی خاندان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی شخص باقی نہ رہے گا اور اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آبھی جائے تو باقی خاندان والوں کو سنبھالنے کے لیے آپ موجود ہوں گے ۔

اس بچے کی طرف سے اس طرح کے شجاعانہ مشورہ نے سب لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا اور لوگوں کے روکنے کے باوجود بھی بے انتہاء اصرار کیا اور تمام قافلے والوں کو اپنی قیادت پہ رضا مند کر لیا ۔

اس شجاع بچے اپنے ہاتھ میں موجود لاٹھی سے آگے چلتے ہوئے لائن لگاتا گیا اور باقی پورا قافلہ اسی لائن پہ چلتا رہا اور قافلے کا ہر شخص کے آنکھوں سے اس بچے کی حفاظت کے لیے آنسو جاری تھا اور اس کی سلامتی کی دعائیں مانگی جاتی رہی اور بالآخر پورا قافلہ با حفط و امان داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس شجاع بچے کا نام علی احمد راشد ہے جس کی بہادری نے لوگوں کو تحسین و تقدیر پر مجبور کر دیا ۔

روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے خدام کا ایک وفد خصوصی طور پر اس بہادر بچے سے ملنے کے لیے گیا اور اسے اس بہادری پہ خراج تحسین پیش کیا وفد نے اس بچے کو روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کا عَلَم، متبرک تحائف اور مختلف انعامات بھی دئیے۔۹۸۹/۹۳۰/ک ۵۳۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬