04 October 2016 - 22:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423632
فونت
گولن اپنے آبائی ملک میں خاصے مقبول ہیں اور انھیں پولیس اور عدلیہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔
فتح اللہ گولن

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کے حکام نے امریکہ میں مقیم ترک وہابی مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کے نیٹ ورک سے تعلقات کے الزام میں 12 ہزار 801 پولیس افسران کو ملازمت سے معطل کردیا ہے ۔

جبکہ سول اور فوجی اداروں سے معطل  افراد کی تعداد 82 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ 75  سالہ گولن کسی زمانے میں ترک صدر طیب اردوغان کے قریبی اتحادی تھے، تاہم حالیہ چند برسوں میں اردوغان ترک معاشرے، میڈیا، پولیس اور عدلیہ میں خود ساختہ گولن تحریک کی طاقتور موجودگی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ترکی کی وزارت داخلہ نے پولیس فورس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر رکھا ہے، جبکہ ترک حکومت نے ایمرجنسی کی مدت میں بھی مزید 3 ماہ کی توسیع کردی ہے۔

اس حوالے سے جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پورے ملک سے معطل کیے جانے والے پولیس افسران میں سے 2 ہزار 523 پولیس چیفس ہیں۔

ادھر ترکی نے امریکہ سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو اس کے حوالے کردے، جن پر اردوغان کی جانب سے حالیہ ناکام فوجی بغاوت کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

فتح اللہ گولن پر ترکی میں غداری کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد وہ 1999 میں امریکا منتقل ہوگئے اور امریکی ریاست پنسلوانیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، گولن اپنے آبائی ملک میں خاصے مقبول ہیں اور انھیں پولیس اور عدلیہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬