09 October 2016 - 13:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423725
فونت
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پلیس کی طرف سے ہو رہے جھڑپ میں ایک تیرہ سالہ زخمی نوجوان کی موت واقع ہو جانے کی وجہ سے عوام کی طرف سے پرتشدد مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے جس کی وجہ سے صوبائی حکام نے سری نگر کے متعدد علاقوں میں دوبارہ کرفیو نافذ کردیا ہے ۔
کشمیر

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں ایک تیرہ سالہ نوجوان جنید احمد سیکورٹی فورس کی پیلٹ گن سے شدید طور پر زخمی ہوگیا تھا جو ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا ۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق اس نوجوان کی موت کے بعد سری نگر کے اس علاقہ میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور حکومت ہند کے خلاف نعرے لگے اور فرس کے ساتھ تصادم ہوا جس کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔

سیکورٹی فورس کی پیلٹ گن سے شدید طور پر زخمی ہوئے اس نوجوان کے جاں بحق ہونے پر نوجوان کے جلوس جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔

نوجوان جنید احمد کے جنازے میں شریک لوگوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا جس کے جواب میں ہندوستانی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے بھی ہوائی فائرنگ کی، پیلٹ گن کا استعمال کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔

عوام کی طرف سے فورس کی اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مظاہروں کی شدت کو دیکھتے ہوئے حکام نے سری نگر کے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا ہے ۔

اس واقعے کے بعد وادی کے دیگر علاقوں میں بھی پرتشدد مظاہروں میں شدت آگئی ہے ۔ سرکاری اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین اور سیکورٹی فورس کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے ۔

واضح رہے کہ کشمیر میں کئ مہینہ سے مرکزی حکومت اور عوام کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ چل رہا تھا اور حالات کچھ بہتر ہو رہے تھے کہ ہندوستانی فورس کی طرف سے اس نوجوان بچوں کے جان بحق ہونے پر دوبارہ حالات خراب ہو گئے ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۳۶۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬