13 October 2016 - 23:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423822
فونت
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے یکساں سول کوڈ اور تین طلاق کے مسئلے پر تیار کئے گئے سوالنامے کو مسترد کرتے ہوئے لاء کمشین کو جانبدار بتایا ہے۔
 آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں نے لاء کمیشن کی طرف پیش کئے گئے سوالنامے کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے۔

نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان، لاء کمیشن کے اس سوالنامے کا بائیکاٹ کریں گے اور اس کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوالنامہ بھی فراڈ بھی ہے اور خود لاء کمیشن بھی حکومتی کمیشن ہے جو آزادانہ طور پر کام نہیں کررہا ہے۔

لاء کمیشن نے یکساں سول کوڈ اور تین طلاق کے معاملے پر لوگوں کی رائے معلوم کرنے کے لئے سولہ سوالات تیار کئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں لاء کمیشن سے روپورٹ مانگی ہے۔

ہندوستان کی مسلم تنظیموں نے آئین کے آرٹیکل پچیس اور چھبیس کا حوالہ دیا ہے جس میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ ہم سب لوگ ایک معاہدے کے تحت اس ملک میں رہ رہے ہیں جس میں مذہب اور اپنی اپنی روایات پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کا مطلب  آئین ہند اور اس سلسلے میں ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا ہے۔

مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ بھی سوالنامہ تیارکریں گی جس میں کروڑوں لوگوں سے جواب مانگا جائے گا ۔ پریس کانفرنس میں ہندوستان کے مختلف قبائل اور مسالک کو دی گئی چھوٹ کا بھی حوالہ دیا گیا۔۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬