‫‫کیٹیگری‬ :
22 October 2016 - 18:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423991
فونت
ڈاکٹر ولایتی:
عالمی اسلامی بیداری کونسل کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ خطے میں اسلامی بیداری کی پشت پناہی کرنے والی اسلامی استقامت نے پچھلے چند برس کے دوران زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ‌ کے مطابق، بغداد میں اسلامی بیداری کی سپریم کونسل کے نویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب مغربی ایشیا یا مشرق وسطی کا خطہ انتہائی حساس حالات سے دوچار ہے۔

اسلامی بیداری کونسل کے جنرل سیکریٹری نے یہ بات زور دیکر کہی کہ شام میں اندرونی اور بیرونی مخالفین کی فتنہ انگیزیوں اور ریشہ دوانیوں نیز تکفیری گروہوں کی دہشت گردی اور جنگ کے باوجود شامی فوج اور عوامی قوتیں پوری شدت کے ساتھ، اپنے اندرونی، علاقائی اور عالمی دشمنوں کے مدمقابل ڈٹی ہوئی ہیں۔

عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے کہا کہ عراق بھی ، مغربی طاقتوں کی سازشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحرانوں سے باہر آگیا ہے اور گزشتہ دنوں اس نے موصل کی آزادی کے لیے آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ داعش کے خلاف عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کی یہ عظیم معرکہ آرائی، عصری تاریخ کے انتہائی پرتشدد اور وحشی دہشت گرد گروہ یعنی داعش کی نابودی کا نقطہ آغاز ثابت ہوگی۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کا کہنا تھا کہ یمن کے مظلوم اور بے گناہ عوام، بدستور، سعودی حکومت کی مسلط کردہ جنگ اور بمباری کے نتیجے میں مارے جارہے ہیں اور عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

عالمی اسلامی بیداری کونسل کے جنرل سیکریٹری نے مزید کہا کہ بحرین کے مجاہد اور انقلابی عوام بھی جائز اور قانونی حقوق کی بالادستی کے لیے، پرامن طریقے سے تحریک چلا رہے ہیں۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ فلسطینی عوام بھی غاصبانہ قبضے اور صیہونیوں کے مجرمانہ اقدامات کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس قوم کو آج جن حالات کا سامنا ہے وہ دراصل گزشتہ چھے عشرے کے دوران اس مظلوم اور ستم دیدہ قوم کے خلاف ہونے والی سازشوں اور مجرمانہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔

عالمی اسلامی بیداری کونسل کے سیکریٹری نے واضح کیا کہ ایک عرصے سے طے شدہ سازش کے تحت، خطے کی مسلم اقوام کی توجہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں داعش اور تکفیریوں کے خلاف جنگ میں الجھایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ صیہونی حکومت کے سب سے بڑے حامی کی حیثیت سے امریکہ نے پچھلے چند برس کے دوران جو کارستانیاں انجام دی ہیں اس کے نتیجے میں آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ تکفیری سوچ اور دہشت گرد گروہوں نے اسلامی ملکوں کو پوری طرح سے الجھا رکھا ہے اور مقابلے کی سطح اب غاصب صیہونی حکومت کے خلاف جنگ سے نیچے آکر ، تکفیری گروہوں کے چیلنج سے نمٹنے تک محدود ہوگئی ہے۔

عالمی اسلامی بیداری کونسل کے سیکریٹری نے مزید کہا کہ، شام، عراق یمن ، بحرین اور لیبیا سمیت علاقے کے تمام بحرانوں کے پس پردہ سعودی حکومت کا ہاتھ نمایاں ہے اور وہابیت اپنے پیٹرو ڈالروں کے ذریعے عالم اسلام میں فتنہ پروری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔/۹۸۸/ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬