01 January 2017 - 17:52
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425427
فونت
حجت الاسلام مختارامامی :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کہا : گزشتہ سال تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ۵۸ ایسے افراد شہید ہوئے جن کا تعلق مکتب تشیع سے تھا۔
حجت الاسلام مختار امامی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان حجت الاسلام مختارامامی  نے گزشتہ سال 2016کے دوران رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات  میں 58 ایسے افراد شہید ہوئے جن کا تعلق مکتب تشیع سے تھا۔

انہوں نے بیان کیا : ان افراد نے فائرنگ اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں اپنی جانیں گنوائیں۔ گزشتہ سال یہ تعداد 256 تھی تاہم اس سال اس میں نمایاں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے بہترین نتائج کا حصول اور نیشنل ایکشن پلان پر کسی حد تک عمل درآمد ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکری اداروں نے بہترین حکمت عملی کو برؤے کار لاتے ہوئے ان گروہوں کو پسپا کیا ہے جو قومی مفاد کے منافی سرگرمیوں میں عملی طور پر مصروف تھے۔ یہ عناصر نفرت ،انتشار اور مذہبی عصبیت کے فروغ کے ذریعے ملک کے مختلف مسالک کو دست و گریبان کرنے کے ایجنڈے پر تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی شکست کے بعد دہشت گردوں کی عملی کاروائیوں میں کمی آئی ہے جو لائق تحسین ہے تاہم تکفیری فکر کو کالعدم جماعتیں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے ابھی تک پروان چڑھا رہی ہیں جو وطن عزیز کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اس آلودہ فکر کا خاتمہ بے حد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مدارس اور کالعدم جماعتوں کے خلاف جب تک کاروائی نہیں کی جاتی جو نفرت کا نصاب پڑھا کر دہشت گردوں میں اضافہ کر رہے ہیں تب تک اس ملک میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔سیاسی عمل سے ایسے عناصر کو دور رکھا جائے۔اگر حکومتی شخصیات کی طرف سے تکفیری گروہوں سے نرمی کا رویہ برتا جائے تو اسے ملکی سلامتی و استحکام کے منافی سمجھتے ہوئے مقتدر اداروں کو نوٹس لینا چاہییے تاکہ انہیں کسی بھی صورت پنپنے کا موقعہ نہ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ سال نو کے آغاز میں سب نے مل کر اس عزم کا اعادہ کرنا ہو گا کہ وطن عزیز کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے قوم کو بہت ساری توقعات ہیں۔ان کو درپیش مختلف چیلنجز میں دہشت گردی سرفہرست ہے۔دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے بے رحمانہ آپریشن اور موثر حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬