03 January 2017 - 15:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425465
فونت
سپریم کورٹ آف انڈیا نے انتخابی عمل سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ذات پات، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
مذہب کے نام سے ووٹ کا حصول غیر قانونی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا نے انتخابی عمل سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ذات پات، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

واضح رہے کہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے بھارت کے ایک عدالتی فیصلے میں ہندو مذہب کو ’’زندگی کا ایک طریقہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انتخابات کے دوران کوئی بھی امیدوار مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگ سکتا ہے، کیونکہ مذہب زندگی گزارنے ہی کا ایک طریقہ ہے۔

اس فیصلے کے خلاف سیکولر حلقوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف عدالتی درخواستیں دائر کی جاتی رہیں، جن میں عمومی طور پر مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ہندوستانی آئین سیکولر ہے، جس میں مذہب کی بنیاد پر الیکشن لڑنے یا ووٹ مانگنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

ان درخواستوں کی روشنی میں ہندوستانی سپریم کورٹ کے سامنے یہ سوال تھا کہ عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کو بدعنوانی شمار کیا جائے یا نہیں اور یہ کہ کیا ایسا کرنے والے کسی امیدوار کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں سات ججز پر مشتمل یہ بینچ اسی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی، درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کر رہی تھی۔

سات میں سے تین ججوں نے فیصلے سے اختلاف جبکہ چار نے اس سے اتفاق کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی آئین کی اساس سیکولر ہے، جسے صرف اسی صورت برقرار رکھا جا سکتا ہے، جب انتخابی عمل بھی سیکولر اقدار کا پابند ہو اور اسی لئے کسی امیدوار کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ مذہب، نسل، ذات پات، برادری یا زبان کی بنیاد پر ووٹ لے سکے یا دوسرے امیدواروں کے خلاف ان ہی بنیادوں پر تنقید کر سکے۔

خدا و بھگوان اور انسان میں تعلق انفرادی معاملہ ہے جبکہ ریاست اس تعلق کی بنیاد پر ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتی، کیونکہ یہ ہندوستانی ریاست کے آئین اور قانون کے بالکل خلاف ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے آئندہ ریاستی انتخابات پر اس فیصلے کے واضح اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ اترپردیش میں بی جے پی کے امیدواران ایودھیا میں رام مندر کی دوبارہ تعمیر اور ہندو مذہب کے نام پر انتخابی مہم چلا رہے ہیں، جبکہ ہندوستانی پنجاب میں اسی طرح مذہبی تقدس و تحفظ کی بنیاد پر لوگوں سے ووٹ مانگے جا رہے ہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬