17 January 2017 - 14:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425741
فونت
انٹرنیشنل کرائسس گروپ آئی سی جی نے، ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے ٹوٹ جانے کی بابت خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نہ ختم ہونے والے غیر متوقع نتائج برآمد ہوں گے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نومنتخب امریکی صدر کے دور صدارت کے آغاز سے محض چند روز قبل انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں مشرق وسطی میں غیر متوقع تبدیلیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس معاہدے کو کمزور یا محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کے الٹے نتائج برآمد ہوں گے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی معاہدہ کمزرو ہونے کی صورت میں خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔

اس رپورٹ میں، پچھلے ایک برس کے دوران ایٹمی معاہدے یا جامع مشترکہ ایکشن پلان پرعملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ہے، اور اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت کے سبب  اس معاہدے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے جنوری دوہزار پندرہ کے بعد سے چھے بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے جامع مشترکہ پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کردیئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں میں کمی کے باوجود ایران کو معمول کے بینکاری لین دین میں مشکلات کا سامنا ہے جو عالمی معیشت میں ایران کی شمولیت میں رکاوٹ بنی ہوئے ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ایرانی امور کے ماہر علی واعظ نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ایٹمی معاہدے کے فوری طور پرختم ہونے کا تو امکان نہیں تاہم نئی امریکی حکومت کے دور میں، جان بوجھ کر یا غفلت کے نتیجے میں، اس معاہدے کے بتدریج ٹوٹنے یا کمزور ہونے کا خطرہ ضرور موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے ٹوٹنے کی صورت میں ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کی خاطرمیزائل پروگرام کو ترقی دینے اور علاقے میں اپنے اتحادیوں، عراق ، شام اور لبنان کو مضبوط بنانے کا عزم اور بھی پختہ کرلے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران پہلے اعلان کرچکا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں کسی مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور تہران کسی بھی ملک کو جامع ایٹمی معاہدے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ میں امریکہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں کمی کے لیے، محکمہ خزانہ کو مزید اختیارات تفویض کرے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پیر کے روز بریسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے سال کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور یورپی یونین ، ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے پر پورے طور پر عملدرآمد کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔

درایں اثنا برطانیہ کے وزیر خارجہ نے بھی ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی معاہدے یا مشترکہ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کو ضروری قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے نومنتخب امریکی صدر کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی مخالفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے پر عملدرآمد اور اسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا معاہدہ ہے اور ان کا ملک اس معاہدے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ نے جولائی دوہزار پندرہ میں مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کئے تھے جس پر جنوری دوہزار سولہ میں عملدرآمد کا آغاز ہوا تھا جسے گزشتہ روز ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

اس موقع پر اپنے ایک انٹرویو میں ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران ایران کو جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے امریکہ اور بعض دوسرے ملکوں کی جانب سے وعدہ خلافیوں، تاخیری حربوں اور مخاصمانہ رویئے کا سامنا ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬