24 January 2017 - 15:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425884
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری:
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے کہا : دشمن انتہا پسندی اور دہشتگردی کے ذریعے اسلام اور پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش میں ہے ۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری سینٹرل پنجاب کے سات روزہ تنظیمی دورے پر آج ملکوال منڈی بہاوالدین پہنچ گئے، منڈی بہاوالدین پہنچے پر کارکنوں کی بری تعداد نے ان کا استقبال کیا۔

ملکوال میں مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام پیغمبر امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ دشمن انتہا پسندی اور دہشتگردی کے ذریعے اسلام اور پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش میں ہے، کالعدم شدت پسندی کو فروغ دینے والوں کو ملک میں کھلی چھٹی دے کر حکمرانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملکی و عوامی مفاد سے زیادہ انکو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات مقدم ہے۔

انہوں نے کہا : پاراچنار میں مظلوم محب وطن شہریوں کو خاک و خون میں نہلایا گیا ،افسوس سیاسی اشرافیہ ٹس سے مس نہیں ہوئے،دہشتگردوں کے سہولت کارو اور سیاسی سرپرستوں کیخلاف حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے،پاکستان میں داعش کے وجود سے انکار کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں، داعش کا وجود پاکستان میں ہے، اور یہ دہشتگرد گروہ منظم ہو رہے ہیں، پاراچنار میں کاروائی داعشی دہشتگردوں کا شاخسانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردوں کیخلاف کاروائی کرنے کی بجائے پرامن شہریوں اوردورد وسلام پڑھنے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،بیلنس پالیسی کے یہ غیر منصفانہ عمل دہشتگردی کے خلاف جھنگ کو متاثرکرنے کی سازش ہے، پنجاب میں ہمارے بہت سے علماء اور پڑھے لکھے نوجواناں عرصہ دراز سے لاپتہ ہیں، ہمیں بتایا جائے ہمارا جرم کیا ہے؟ظالم اور مظلوم کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا یہ عمل قابل قبول نہیں، دراصل یہ عمل ایک سازش کا حصہ ہے۔

حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ کرپشن کے پیداوار چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ان کا بے رحمانہ احتساب کیے بغیر ملک میں ترقی  اور امن کا قیام ممکن نہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬