27 January 2017 - 19:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425940
فونت
ڈاکٹر طاہرالقادری:
ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز ہوتی تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل پھانسی چڑھ چکے ہوتے، یہاں طاقتور قانون سے بھی بالا ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کو کیفر کردار تک نہ پہنچانے اور انصاف نہ ملنے کیخلاف پاکستان عوامی تحریک نے لاہور میں ایوان اقبال سے لاہور پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جس کی قیادت پی اے ٹی کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور اور رہنماؤں نے کی۔ ریلی میں خواتین کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ریلی سے ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز ہوتی تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل پھانسی چڑھ چکے ہوتے، یہاں طاقتور قانون سے بھی بالا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران قتل عام کرکے عوام کو خوفزدہ کرتے رہے، میرا جہاز نہیں اترنے دیا گیا۔ سارے جہاز کے 20 کروڑ عوام نے مناظر دیکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے حکمرانوں کو چھوڑ دیا تو یہ حکمران پھر قاتل بن جائیں گے، یہ ہر بیٹی کو قتل کریں گے، ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایک انسان کی جان کی عزت کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے، انسانیت کے قاتل بتائیں کس منہ سے کعبہ کا طواف کرتے ہیں، ہم انصاف اور قصاص کے حصول کی جنگ جاری رکھیں گے، ہم نے قصاص کی تحریک چلائی ایک مرحلہ مکمل ہوا، دوسرا اور تیسرا مرحلہ باقی ہے، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ اداروں سے مایوس ہو کر ہم نے قانون ہاتھ میں لے لیا اور فیصلہ کر لیا کہ ہم خود قصاص لیں گے تو تم میں سے کوئی نہیں بچے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پرامن ہیں، ہم دہشتگردی کی جانب نہیں جانا چاہتے، ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کیخلاف آواز اٹھائی ہے، مگر مظلوم انتقال لینا چاہتے ہیں، میں کب تک ان کو روکوں گا، اللہ نہ کرے ایسا دن آئے، ایسا دن آ گیا تو کوئی وزیر بچے گا نہ ایم پی اے اور ایم این اے، کوئی حکمران بھی نہیں بچے گا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ کارکن حکمرانوں کا وہ حشر کر سکتے ہیں جو انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں کیا، ہم صرف قصاص مانگتے ہیں، ہم پرامن ہیں اور پرامن رہنا چاہتے ہیں اور امن تبھی ہو گا جب انصاف ہو گا۔ جب انصاف قتل ہو جائے تو امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے جسٹس باقر کی رپورٹ دبا دی، اگر یہ بے گناہ ہیں تو جسٹس باقر کی رپورٹ کیوں دبا دی گئی، اس کمیشن میں ہم تو پیش نہیں ہوئے، یک طرفہ رپورٹ ہے، اس میں بھی آپ قاتل قرار پائے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا جسٹس عیسی فائز کی رپورٹ بھی حکومت چاہتی تھی منظر عام پر نہ آئے لیکن سپریم کورٹ نے وہ رپورٹ دبنے نہیں دی، سپریم کورٹ نے براہ راست شائع کروا دی۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس عیسی فائز رپورٹ نے وہی کچھ کہہ دیا جو میں عرصہ دراز سے کہہ رہا تھا کہ ان حکمرانوں کے تانے بانے دہشتگردوں سے ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی بنی اور کمیشن بھی بنا لیکن جے آئی ٹی کو ختم کر دیا گیا، جے آئی ٹی نے لکھا کہ بڑے بڑے قتل کے ذمہ دار جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے، حکومت نے پوری معلومات بھی فراہم نہیں کی گئی، ہماری ایف آئی آر اگست میں رجسٹرڈ ہوئی ہمارے دھرنے کے بعد درج کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ہمیں معلومات نہیں دی جارہیں ، اس ایف آئی آر کو منسوخ کر دی جائے، کہا گیا جن اسلحے سے گولیاں چلائی گئیں ہمیں وہ اسلحہ ٹیسٹ کرانے کیلئے نہیں دیا جا رہا، اس لئے یہ ایف آئی آر غلط ہے، اس پر مقدمہ نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ملزمان پیش نہیں ہوئے، ایسی صورت حال میں ہم کیا فیصلہ کریں، اس جے آئی ٹی نے پولیس کی ایف آئی آر ختم کرنے کی تجویز دی، حکمرانوں نے وہ جے آئی ٹی ختم کرکے نئی جے آئی ٹی بنا دی اور اپنے تمام بندے اس میں شامل کر دیئے اور مظلوموں کیخلاف مقدمہ درج ہوا اور وہی چل رہا ہے۔

طاہرالقادری نے کہا کہ دوسری جے آئی ٹی نے حکومت کی خواہش کے مطابق رپورٹ بنا دی۔ اس صورت حال میں کہاں انصاف مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں اور شہداء کے لواحقین نے سرنڈر نہیں کیا، ہم یہ کیس زندہ رکھیں گے، کبھی تو اچھا وقت آئے گا، جب اچھا وقت آئے گا آپ لٹکیں گے، ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا خون آپ کو لٹکائے گا، ہماری جنگ انصاف کیلئے ہے، قصاص کیلئے ہے، جب ہم محسوس کریں گے کہ اب کوئی راستہ نہیں تو ہم اگلے فیز کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملا تو میں کارکنوں کو فری ہینڈ دے دوں گا، پھر معاشرے دہشتگردی میں چلا جائے گا، خون خرابہ ہو گا، کوئی نہیں بچے گا، حکومت ایسی صورتحال نہ بننے دے۔

انہوں نے کہا کہ میں کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں کو قارون کی دولت پر نہیں بکے، جو فرعون کے دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین نے فرعون کی دولت پر لعنت بھیج دی ہے لیکن بکے نہیں، کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں، غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے آج ریلی میں آئے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬