‫‫کیٹیگری‬ :
16 June 2017 - 16:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428570
فونت
روزه‌ داری کے احکام :
رھبر معظم انقلاب اسلامی سے اس مسئلہ کا استفتاء کیا گیا کہ اس لحاظ سے کہ ڈاکٹر شرعی مسائل سے لاعلم ہیں اگر کسی کو روز رکھنے سے منع کردیں تو کیا ان کے کہنے پر عمل ضروری ہے ؟
روزه‌ داری کے احکام

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت ایت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس مسئلہ کے استفتاء کے جواب میں کہ «اس لحاظ سے بعض ڈاکٹر شرعی مسائل سے لا علم ہوتے ہیں اگر کسی کو روز رکھنے سے منع کردیں تو کیا ان کے کہنے پر عمل ضروری ہے »؟ آپ نے کہا: اگر ڈاکٹر کی باتوں پر یقین پیدا ہوجائے کہ روزہ، روزہ دار کے لئے نقصان دہ ہے تو نہ فقط یہ کہ اس پر روزہ واجب نہیں ہے بلکہ اس کا روزہ رکھنا ناجائز ہے ۔

روزہ رکھنے میں غير امين ڈاکٹر کا منع کرنا

بعض وہ ڈاکٹر جو شرعی مسائل پر اعتقاد نہیں رکھتے اگر کسی کو روزہ رکھنے سے منع کریں تو کیا ان کی باتوں پر عمل کیا جاسکتا ہے  ؟

حضرت ایت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس استفتاء کے جواب میں کہا : اگر ڈاکٹر امین نہ ہو، اس کی باتوں پر یقین نہ آئے اور روزہ خوف و ضرر کا سبب بھی نہ ہو تو اس کا بیان قابل اعتبار نہیں اور روزہ رکھیں گے مگر اگر ایسا نہ یعنی ڈاکٹر کی بات قابل اعتبار ہو یا نقصان کا خوف ہو تو روزہ نہیں رکھ سکتے ۔

حضرت ایت اللہ مکارم شیرازی کے دفتر سے پوچھے گئے اس سوال کہ « اگر غیر مسلمان ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کرے تو کیا اس کی باتوں پر عمل کیا جاسکتا ہے » کے جواب میں کہا گیا : اگر غیر مسلمان ڈاکٹر کی باتوں سے روزے کے نقصان دہ ہونے کا یقین حاصل ہوجائے تو روزہ نہیں رکھیں گے ۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬